News Details
13/01/2026
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، ایک طرف قومی اثاثے بیچے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انصاف فروخت کیا جا رہا ہے اور عدالتی احکامات کو کھلے عام ردی کی ٹوکری میں پھینکا جا رہا ہے، قوم کا مقبول ترین لیڈر جیل میں قید ہے اور آئین کو طاقت کے بل پر پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک عدلیہ آزاد اور وکلاءمتحد ہو کر کھڑے نہیں ہوں گے، پاکستان ایک آئینی اور جمہوری ریاست کے طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سندھ کے چار روزہ دورے کا اختتام آخری دن مزارِ قائد پر حاضری، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب اور پارٹی رہنماو ¿ں و کارکنوں سے ملاقاتوں پر ہوا۔ دورے کے آخری دن کا آغاز مزارِ قائد پر حاضری سے ہوا جہاں وزیر اعلیٰ نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار پر فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود تھی، جن میں پارٹی کے سیکریٹری جنرل بیریسٹر سلمان اکرم راجہ، پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، عمر ڈار، ریحانہ ڈار، نعیم حیدر پنجوتہ، شفیع جان،مینا خان آفریدی، شوکت بسرا، محمد علی بلوچ اور دیگر رہنما شامل تھے۔ مزارِ قائد پر تاثراتی نوٹ میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے افکار آج بھی پاکستان کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور قوم و ریاستی اداروں کو چاہیے کہ بانی پاکستان کے متعین کردہ اصولوں پر عمل کر کے ملک کو آئینی راستے پر گامزن کریں۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پی ٹی آئی قیادت کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ پہنچے جہاں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ وکلاءبرادری سے براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے عوام کو بہادر،جرات مند اور مہمان نواز قراردیا ، تاہم اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ سندھ حکومت نے مہمانوں کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا اور سندھی ثقافت کی علامت اجرک اور ٹوپی کی حرمت کو بھی مجروح کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ملک میں آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، ریاستی اداروں کو دانستہ طور پر کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کا خمیازہ پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے جیسے اہم قومی ادار ے بھیجے جارہے ہیں، یہاں تک کہ انصاف کو بھی خرید و فروخت کی شے بنا دیا گیا ہے، حالانکہ انصاف کبھی برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کی جانب سے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، مگر جیل کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے عدالتی حکم کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ یہ ان کی ذاتی توہین نہیں بلکہ پوری عدلیہ اور وکلاءکے مقدس پیشے کی کھلی بے توقیری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئینِ پاکستان ہر شہری کو بنیادی حقوق دیتا ہے، لیکن جب تمام آئینی اور قانونی راستے بند کر دیے جائیں تو احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم، پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کو بھی خطوط لکھے، مگر ملاقات ممکن نہ ہو سکی اور نہ ہی کسی سطح پر جواب دیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وکلاءکھڑے نہیں ہوں گے، عدلیہ آزاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ بار کے وکلاءکے تاریخی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی ہر بڑی آئینی تحریک میں سندھ کے وکلاءصفِ اوّل میں رہے ہیں۔انہوں نے وکلاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئین و قانون کی بالادستی کے لیے تحریک شروع کی گئی تو وہ خود سب سے آگے کھڑے ہوں گے، اور اگر وکلاءپر گولی چلائی گئی تو پہلے ان پر گولی چلانا پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے حق کی خاطر جدوجہد میں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ ان کا سرکاری پاسپورٹ بھی بلاک کر دیا گیا، جو خیبرپختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی جدوجہد ہمیشہ پرامن رہی ہے،ہم نے بندوق نہیں اٹھانی، قلم اور آئین کا ساتھ دینا ہے۔ ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان شدید معاشی بحران کا شکار ہے، نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں، 45 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر حکمرانوں کو عوام کے مسائل کے بجائے صرف اپنی حکومت بچانے کی فکر لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کا پیغام موصول ہوا ہے اور وہ یہی پیغام لے کر عوام اور بالخصوص وکلاءکے پاس آئے ہیں تاکہ آئین و قانون کی بحالی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی جا سکے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدور نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک آئین اپنی اصل شکل میں بحال نہیں ہو جاتا، وکلاءکی تحریک جاری رہے گی۔تقریب کے بعد وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی دیگر پارٹی رہنماو ¿ں کے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے سینئر نائب صدر فہیم خان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، جنرل سیکریٹری ارسلان خالد، ترجمان پی ٹی آئی سندھ محمد علی بلوچ اور دیگر رہنماو ¿ں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیاسی مقدمات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اسیرانِ تحریک انصاف، انصاف لائرز فورم اور وومن ونگ کے نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔وزیراعلیٰ مجلس وحدت المسلمین کے مرکزی دفتر میں علماءکرام سے ملاقات کی۔ انہوں نے سابق رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹر سعید آفریدی کی رہائش گاہ پر کارکنوں سے خطاب بھی کیا۔