News Details

11/01/2026

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف، آزاد عدلیہ کی بحالی اور حقیقی آزادی کے لیے پوری استقامت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف، آزاد عدلیہ کی بحالی اور حقیقی آزادی کے لیے پوری استقامت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا، جس سے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت قائم ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہماری جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط بنانے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحفظ کی بنیادی داری وکلاء برادری پر عائد ہوتی ہے، اور موجودہ حالات میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کے بعد متعارف کرائی جانے والی آئینی ترامیم اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور ریاستی ڈھانچے کے توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ آئین کی مضبوطی اور عدالتی خودمختاری کے لیے منظم تحریک کا آغاز کریں، جس میں پاکستان تحریک انصاف کا ہر کارکن مکمل اور غیرمشروط حمایت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ میں وکلاء کا فعال اور فیصلہ کن کردار ناگزیر ہے تاکہ آئین شکن اقدامات کے سامنے مؤثر مزاحمت کی جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے حیدرآباد کی وکلاء برادری کو خیبر پختونخوا کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے بین الصوبائی ہم آہنگی اور آئینی جدوجہد میں باہمی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے پانی کے مسئلے پر پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ فرنٹ فٹ پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی صوبوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔