News Details

08/01/2026

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے نویں کانووکیشن سے خطاب

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے نویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عناصر خیبر پختونخوا کی ترقی اور بچوں کے ہاتھ میں قلم دیکھنا نہیں چاہتے، مگر ہم اس سوچ کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیرِ اعلیٰ نے خیبرپختونخوا کی بچیوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی سوچ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچے اور بچیاں ایک پرامن ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے مگر بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے حالات کو خراب کیا اور مسائل میں اضافہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بند کمروں کے فیصلے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، پالیسیاں عوامی مشاورت سے اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر بننی چاہئیں۔محمد سہیل آفریدی نے خطاب میں بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 22 سے بڑے جبکہ 14 ہزار سے زیادہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہ ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پالیسی میں سنجیدہ تبدیلی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلے قابلِ قبول نہیں ہوتے ، خیبر پختونخوا پہلے ہی پاکستان کے لیے بھاری قربانیاں دے چکا ہے، اس لیے مزید قربانی سے پہلے سچ بولنا ہوگا۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ماضی کے آپریشنز میں صوبے کے اسکول، کالجز، ہسپتال، گھربار اور عبادت گاہیں تباہ ہوئیں جبکہ دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثرہ خاندانوں کو آج تک اعلان کردہ معاوضہ نہیں ملا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے نام پر کسی سیاسی جماعت یا قیادت کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور اگر واقعی دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہے تو خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کو ساتھ بٹھا کر مشترکہ پالیسی تشکیل دی جائے۔ وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی بچیوں کی تعلیم اور نوجوانوں کے روزگار کے لیے ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ڈگری مکمل کرنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور نئی یوتھ پالیسی کے تحت باصلاحیت نوجوانوں کو آگے لانے کے لیے ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے،ہمت اور محنت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ہم اپنے عوام کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیںاور ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔