News Details

08/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت ضم اضلاع کے لیے جامع ترقیاتی پیکج کی تیاری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیر صدارت ضم اضلاع کے لیے جامع ترقیاتی پیکج کی تیاری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضم اضلاع کی پائیدار معاشی اور سماجی ترقی کے لیے مجوزہ فریم ورک اور ترجیحی شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم اضلاع کی ترقی کے لیے چھ تھیمیٹک ایریاز میں سرمایہ کاری کی جائے ۔ جبکہ مجوزہ ترقیاتی پیکج کا مجموعی حجم ایک ہزار ارب روپے ہوگا، جس کا نام ”روښا نه قبائل “ (روشن قبائل) فائنل کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکج کے تحت بنیادی ڈھانچے، انسانی وسائل کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ ضم اضلاع کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے ہم پلہ لایا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پیکج میں قبائل میڈیکل کالج، انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن سائنسز اور ڈیجیٹل سٹیز کے قیام کو شامل کیا جائے اور جن اضلاع اور تحصیلوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال موجود نہیں، ان کے قیام کو بھی پیکج کا حصہ بنایا جائے۔مزیدبرآںوزیر اعلیٰ نے ہر ضم ضلع میں ایک جدید سپورٹس کمپلیکس اور ہر تحصیل کی سطح پر سپورٹس گراو ¿نڈ قائم کرنے کی ہدایت کی تاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے ضم اضلاع کے بازاروں اور داخلی و خارجی راستوں کو سیف سٹی منصوبے میں شامل کرنے، بازاروں، سکولوں اور مراکز صحت کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور ہر تحصیل میں یتیم خانے اور پناہ گاہیں قائم کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ اس کے علاوہ ہر تحصیل میں ریسکیو 1122 سٹیشن کے قیام کو بھی ترقیاتی پیکج کا حصہ بنانے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا تناسب خاطر خواہ بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ان شعبوں میں نمایاں بہتری ناگزیر ہے۔ انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آبپاشی، سوشل ویلفیئر، کھیل اور توانائی کے شعبوں کے حصے میں بھی اضافہ کرنے کی ہدایت کی۔اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیکج کے تحت ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، بہتر طرزِ حکمرانی اور مو ¿ثر سروس ڈیلیوری کے لیے خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ بین الشعبہ جاتی اصلاحات کے ذریعے ہمہ گیر ترقی اور بالخصوص صحت و تعلیم کے شعبوں کو مضبوط بنایا جائے گا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس ترقیاتی پیکج کے تحت ضم اضلاع میں 1245 نئے پرائمری سکول قائم کیے جائیں گے جبکہ 463 پرائمری اور 85 مڈل سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اسی طرح 975 پرائمری، 240 مڈل اور 125 ہائی سکولوں کی بحالی عمل میں لائی جائے گی اور 11 ہزار 500 اساتذہ کی بھرتی کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی سکالرشپس بھی فراہم کی جائیں گی۔ صحت کے شعبے میں مراکز صحت کی بحالی و فعالی، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن سنٹرز کے قیام کو بھی پیکج میں شامل کیا گیا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، چیک ڈیمز اور آبپاشی انفراسٹرکچر کی ترقی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، صنعتی انفراسٹرکچر کا قیام اور سکولوں، مراکز صحت اور بازاروں کی سولرائزیشن بھی اس پیکج کا حصہ ہوگی۔ اس کے علاوہ زراعت و لائیو اسٹاک، جنگلات، کھیل اور امورِ نوجوانان کے شعبوں میں بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جبکہ بلدیات، ریلیف اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اقدامات کئے جائیں گے۔