News Details

06/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس وقت ایک فیصلہ کن دور سے گزر رہا ہے جہاں آئین و قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے تحفظ کے لیے اجتماعی مزاحمت ناگزیر ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد بار کے عہدیداران، وکلاءبرادری اور میڈیا نمائندگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء ہمیشہ آمریت، جبر اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف صفِ اول میں رہے ہیں۔ انہوں نے ایمان مزاری کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے اس دور میں انہوں نے بہادری، استقامت اور جرات کی نئی مثال قائم کی ہے، جس سے ملک بھر کے نوجوانوں کو حوصلہ اور جرات ملی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج پاکستان میں حق اور سچ بولنے کی قیمت چکائی جا رہی ہے۔ صحافیوں کو ملک کے اندر اور باہر نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کے خلاف مقدمات، حملے اور کردار کشی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر معید پیرزادہ اور صابر شاکر سمیت صحافیوں کے خلاف کارروائیاں آزادی اظہار پر کھلا حملہ ہیں۔ ماضی میں بھی حق گو صحافیوں کو پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور بیرونِ ملک بھی انہیں محفوظ نہیں رہنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل ہر شخص کی باری آئے گی۔ اگر آج کسی ایک کا گھر جل رہا ہے اور ہم خاموش ہیں تو کل اس کی تپش سب کو محسوس ہوگی۔ لیکن اگر آج ہم ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہو جائیں تو نہ صرف اپنا بلکہ اپنے پڑوسی کا گھر بھی بچا سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف گزشتہ تین سال سے مسلسل جبر، انتقام اور سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ حق اور سچ کا ساتھ دینے والے صحافیوں کو بھی منظم طور پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا اگر آج اس کے خلاف مزاحمت نہ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد محض اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ پورے پاکستان، ہر مکتبہ فکر، جمہوریت، آئین، قانون، آزاد عدلیہ اور شفاف انصاف کے لیے ہے۔ عمران خان کو قید میں رکھنا دراصل عدلیہ، انصاف اور ریاستی وقار کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ توشہ خانہ اور عدت جیسے مقدمات کو انہوں نے سیاسی انتقام کی بدترین مثال قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنا، منتخب قیادت کو زخمی حالت میں عدالتوں میں پیش کرنے پر مجبور کرنا اور طاقتور مجرموں کو سہولت دینا اس نظام کی اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا ہر کارکن صرف انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی چاہتا ہے، چاہے اس راستے میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر نے متفقہ طور پر واضح کیا کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور صوبائی حکومت اس ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں آگے صرف تباہی کا راستہ ہے اگر موجودہ گھٹیا نظام کو تبدیل نہ کیا گیا۔ انہوں نے وکلاءبرادری پر زور دیا کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کریں کیونکہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ اگر وکلاء تحریک کا اعلان کیا گیا تو پاکستان کا ہر باشعور نوجوان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے وکلاء، بار ایسوسی ایشنز، میڈیا نمائندگان اور تمام شریک افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس فرسودہ نظام کے خلاف یہ مزاحمت جاری رہے گی۔