News Details
19/02/2026
عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب ایک منظم اور پرامن عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔وزیر اعلیٰ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد اب ایک منظم اور پرامن عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے لیے “عمران خان رہائی فورس” قائم کی جا رہی ہے جس کے تحت ملک بھر میں نوجوانوں کی ممبرشپ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس فورس میں آئی ایس ایف، انصاف یوتھ ونگ، وومن ونگ، مائنارٹی ونگ، پروفیشنلز اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی اور عمران خان کی رہائی کے بعد اس فورس کو خود عمران خان تحلیل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبرشپ کارڈز چار سے پانچ دن میں تیار ہو جائیں گے جبکہ عید کے بعد پشاور میں نوجوانوں سے باضابطہ حلف لیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس تحریک کے لیے ایک مضبوط چین آف کمانڈ تشکیل دی جائے گی اور ہر ہدایت عمران خان کی نامزد قیادت کے ذریعے موصول ہوگی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری عمران خان نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی ہے اور یہ ان کا فیصلہ تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے، جس پر تمام قیادت نے لبیک کہا اور ہم بھی ان کی کال پر یہاں موجود رہے۔ مجھے عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ پورے پاکستان میں تیاری جاری ہے اور لوگ متحرک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی، قانونی اور جمہوری تمام راستے اختیار کرنے کے باوجود عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ بہترین تیاری کے بعد ہی مؤثر کال دی جائے گی۔ یہ لڑائی حقیقی آزادی، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد ہے، اور انشاء اللہ اس میں جیت حق اور سچ کی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا احتجاج کارکنان نے اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ کے احکامات آنے پر ہم عدالتوں کے احترام میں ایک قدم پیچھے ہٹے، کیونکہ عمران خان نے ہمیں اداروں کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ میں تمام کارکنان اور خیبر پختونخوا کی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کئی دن تکلیف برداشت کی اور آج بھی عمران خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعلی نے واضح کیا کہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے، منصب سے نہیں۔ اگر عزت انسانوں کے ہاتھ میں ہوتی تو عمران خان قوم کے دلوں کی دھڑکن نہ ہوتے۔