News Details

13/02/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک کو انتہائی تشویشناک قرار

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی طبی حالت کے ساتھ سنگین غفلت اور مجرمانہ لاپروائی برتی گئی، جو طبی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔ جو سرکاری میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے اس میں خود تسلیم کیا گیا ہے کہ عمران خان کی بینائی دس سے پندرہ فیصد تک رہ گئی ہے، تاہم اس رپورٹ پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تاحال ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو مکمل معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرتے وقت نہ ان کے اہل خانہ کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان کے ذاتی معالج کو بلایا گیا، جو بدنیتی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ عمران خان کی مقبولیت کم نہ ہونے کی وجہ سے انہیں دانستہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اگر آج آنکھ کے ساتھ ایسا کیا گیا ہے تو کل خدانخواستہ کچھ اور بھی ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر پنجاب کی مسلط کردہ حکومت کی سرپرستی میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے تو یہ ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے اور اس کے پیچھے بدنیتی اور خطرناک عزائم واضح نظر آتے ہیں۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر اور بعد ازاں خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ قوم ماڈل ٹاؤن، نو مئی، چھبیس نومبر اور مریدکے جیسے واقعات نہیں بھولی۔ جن عناصر کے لیے عام شہریوں کی جان کی کوئی اہمیت نہیں وہ آج کھلے عام ریاستی جبر پر اتر آئے ہیں۔ اسی پس منظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں گزشتہ تقریباً ایک سال سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرا بی بی کے کیسز نہ لگنا شدید تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہ کریں تو عوام کی آخری امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان پر میموگیٹ، ڈان لیکس یا اداروں کے خلاف نعروں جیسے کوئی الزامات نہیں، جبکہ ایسے معاملات میں ملوث افراد کو 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ چرا کر اقتدار سونپ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور وفاق میں مسلط حکومت عوامی مینڈیٹ کے بغیر قائم ہے اور “گدھا گاڑی سے لینڈ کروزر کا سفر ممکن نہیں” اور حقیقت پوری قوم کے سامنے ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کی سیکیورٹی صورتحال بدترین رخ اختیار کر رہی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے جبکہ اسلام آباد بھی محفوظ نہیں رہا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا پولیس اور کاو ¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے حملے ناکام بنائے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا مجموعی قرضہ 80 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ 36 ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ ڈالر سے منسلک ہے۔ ملک کی ایکسپورٹس صفر کے قریب ہیں، تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے اور ڈالر کو مصنوعی طور پر 280 روپے پر روکا گیا ہے، مگر حقیقت سامنے آنے پر یہ 400 سے اوپر جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک ہاتھ سے نکل رہا ہے مگر حکمرانوں کی ترجیح صرف عمران خان کو ناحق قید میں رکھنا ہے اور انہیں پاکستان کی فکر کرنے سے زیادہ عمران خان کی جان سے کھیلنا اہم لگتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی مزید خاموش نہیں رہیں گے کیونکہ یہ عمران خان کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اس حق کو استعمال کرنا عوام کا اختیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کی ہدایت کے مطابق 16 فروری تک عمران خان کا فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کرایا جائے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالغفور انجم سمیت تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور اس جدوجہد میں پوری قوم ساتھ دے گی