News Details

12/02/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کا تفصیلی دورہ کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کا تفصیلی دورہ کیا جس کے دوران اُنہوں نے گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جمرود کی اپلائیڈ سائنسز کی جانب اپ گریڈیشن، دہشتگردی سے متاثرہ علاقو ں میں نو تعمیر و بحال شدہ 50 تعلیمی اداروں، باڑہ بائی پاس روڈ کی تکمیل ، ڈی ایچ کیو ہسپتال جمرودمیں صحت سہولت پروگرام اور ماں اور بچے کے لیے خصوصی نیوٹریشن سہولت سمیت دیگر اہم منصوبوں کا افتتاح کیا۔ وزیراعلیٰ نے ان منصوبوں کو صوبے میں جدید تعلیم، بہتر انفراسٹرکچر، معیاری صحت سہولیات اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی جانب ایک جامع حکومتی حکمت عملی کا حصہ قراردیتے ہوئے کہاکہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے کے پسماندہ اضلاع کے عوام کی محرومیوں کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ صوبے کے عوام کی خوشحالی اور اُن کے حقوق کا تحفظ ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ اب فیصلے صوبے کے عوام کے مفاد میں ہوں گے اور وہ اس سلسلے میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جمرود کی اپ گریڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جمرود میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور سافٹ ویئر انجینئرنگ جیسے جدید پروگرامز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں تعلیم کو نیا رخ دینے جا رہی ہے کیونکہ فرسودہ تعلیمی نظام بے روزگاروں کی فوج پیدا کر رہا تھا، جبکہ موجودہ حکومت جدید اور مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیم کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے کالجز میں پہلی بار اسٹیٹ آف دی آرٹ لیبز اور جدید لائبریریز قائم کی جا رہی ہیں اور یہ جدید تعلیمی ماڈل جمرود سے بٹگرام، وزیرستان اور چترال تک مرحلہ وار پھیلایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم کے ذریعے بااختیار بنانا چاہتی ہے کیونکہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر عالمی ترقی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلے اسلام آباد یا پنڈی سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مفاد میں ہوں گے اور صوبائی حکومت عمران خان کے وژن اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید کو ناحق قرار دیتے ہوئے بنیادی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عمران خان کی صحت کی خرابی کے باوجود ان کے ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بارہ سے زائد مرتبہ اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکا گیا اور ان کا پاسپورٹ اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا جو ایک آئینی عہدے کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کی ایک فیڈریٹنگ یونٹ ہے مگر وزیراعلیٰ کے ساتھ غیر مساوی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، اور اگر ایک وزیراعلیٰ کے ساتھ یہ سلوک ہو سکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا مگر شنوائی نہیں ہوئی اور وہ تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے آزما چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تمام راستے بند کر دیے جائیں تو پرامن احتجاج ہی واحد آپشن رہ جاتا ہے، تاہم احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور خیبر پختونخوا کے مفاد کے خلاف ہر پالیسی کی مخالفت کریں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اپنے عوام کے حقوق کے لیے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے وکیل علی زمان پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سادہ کپڑوں میں اغوا اور تشدد دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں ، ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا کیونکہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ضلع خیبر کے دہشتگردی سے متاثرہ علاقے باڑہ اور ملحقہ علاقوں میں چین کی مالی و تکنیکی معاونت سے دوبارہ تعمیر و بحال کئے گئے 50 اسکولوں کا افتتاح کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا جس کے تحت 35 پرائمری، 7 مڈل، 7 ہائی اور ایک سینئر ہائی اسکول کی تعمیر نو اور بحالی عمل میں لائی گئی۔ اسکولوں میں شمسی توانائی، صاف پانی، ٹھنڈک اور صفائی کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور تعمیر نو کے بعد تمام ادارے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے، دہشتگردی نے اسکول گرائے مگر صوبائی حکومت نے مستقبل تعمیر کیا ہے اور تعلیم کے ذریعے انتہاپسندی کا جواب دیا جائے گا۔ اس منصوبے سے ہزاروں طلبہ محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول سے مستفید ہوں گے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر باڑہ بائی پاس روڈ کی تکمیل پر بھی افتتاح کیا جس کی مجموعی لمبائی 7 کلومیٹر ہے اور اس میں 152 میٹر طویل پل بھی شامل ہے۔ بریفنگ کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 1.32 ارب روپے ہے جن میں سے 1.21 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بائی پاس روڈ علاقائی رابطہ کاری اور آمدورفت میں بہتری کے لیے تعمیر کیا گیا ہے جس سے باڑہ بازار اور رہائشی علاقوں میں ٹریفک دباو ¿ میں واضح کمی آئے گی اور مقامی تجارت و معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔دورے کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ضلع خیبر میں ماں اور بچے کے لیے خصوصی نیوٹریشن سہولت کا بھی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غذائی قلت کے شکار بچوں اور خواتین کی اسکریننگ، تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور ماں، بچے سمیت دیگر مریضوں کو معیاری غذائی معاونت میسر آئے گی۔ اس کے علاوہ اُنہوںنے مذکورہ ہسپتال میں صحت سہولت پروگرام کا بھی اجراءکیا اور کہاکہ اب علاقے کے اہل خاندان اپنی دہلیز پر علاج معالجے کی مفت معیاری سہولیات سے مستفید ہوں گے ۔ یہ علاقے کے غریب عوام کی اشد ضرورت تھی جو صوبائی حکومت نے پوری کر دی ہے۔مزید برآں وزیراعلیٰ نے باب خیبر کے تحفظ و بحالی کے منصوبے پر کام کا باضابطہ اجراءکیا اور کہاکہ باب خیبر ہماری تاریخ، ثقافت ، ورثے اور قومی شناخت کی علامت ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امتداد زمانہ کے ساتھ شدید موسمی اثرات، آلودگی اور بھاری ٹریفک کے ارتعاش نے باب خیبر کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے اس کی بحالی اور تحفظ کا منصوبہ شروع کیا گیاہے۔آخر میں وزیر اعلیٰ نے سپورٹس کمپلیکس جمرود میں ضم اضلاع انڈر 16 گیمز فار بوائز کا بھی افتتاح کیا اور کہا کہ یہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے مگر نامساعد حالات کے باعث وہ سامنے نہیں آ سکا، ان گیمز اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اس ٹیلنٹ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی سرزمین زرخیز ہے اور یہاں کے نوجوان پاکستان کی کرکٹ، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں پہلے ہی نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیمز ان کا انتظار کر رہی ہیں، وہ محنت جاری رکھیں ، وہ بھی ایک دن ملک کی نمائندگی کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جنگ نہیں بلکہ کھیل اور تعلیم کا راستہ دکھانا چاہتی ہے اور یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہمیں بندوق نہیں چاہیے، ہم نے پڑھنا ، کھیلنا اور آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع سے آئے ہوئے مہمانوں کو خیبر کی سرزمین پر خوش آمدید کہا اور یقین دلایا کہ انہیں شکایت کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا اور خیبر پختونخوا کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور خوشحال مستقبل کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔