News Details
02/02/2026
گرینڈ امن جرگے میں تیراہ سے لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے پھیلائے گئے ابہام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے متاثرین نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ نگرانی خیبر میں منعقدہ گرینڈ امن جرگے میں تیراہ سے لوگوں کے انخلاء کے حوالے سے پھیلائے گئے ابہام کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے متاثرین نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ وہ اپنے گھروں سے رضاکارانہ طور پر نہیں نکلے بلکہ جبری طور پر نکالے گئے ہیں۔ جرگے میں شریک عوام، مشران اور متاثرین نے متفقہ طور پر اس امر کا اعتراف کیا کہ تیراہ میں ہونے والی نقل مکانی ان پر مسلط کی گئی اور اس عمل کے دوران انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جرگے کے شرکاء نے تیراہ کے عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور ظلم کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے جرگے کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اسلام آباد جانے سے قبل دیگر قبائلی اضلاع میں بھی مشاورتی جرگے منعقد کیے جائیں گے تاکہ تمام متاثرہ علاقوں کی اجتماعی رائے سامنے آ سکے، جس کے بعد تمام قبائلی اضلاع کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد کر کے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اسلام آباد جا کر واضح طور پر کہا جائے گا کہ ایسے فیصلے نامنظور ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صوبے اور اپنے عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پوری دنیا کی دولت بھی ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی، تاہم رجیم چینج آپریشن کے ذریعے بیرونی سازش کے تحت عمران خان کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا، جس کے بعد صوبے پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حالات کی خرابی پر پیشگی خبردار کیا، مگر ان خدشات کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیا گیا، حتیٰ کہ اس وقت کی وفاقی حکومت نے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے بتایا گیا کہ دہشت گرد پہاڑوں تک پہنچ چکے ہیں مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی، پھر آگاہ کیا گیا کہ وہ وادی میں اتر آئے ہیں، لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ بعد ازاں دہشت گرد گھروں تک پہنچ گئے اور بندوق کی نوک پر کھانا لینے لگے،اب لوگ جاتے تو کہاں جاتے اور کیا کرتے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ دہشت گردوں نے کھانا کیسے لیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ گھروں تک پہنچے کیسے اور انہیں روکنے والی سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس کے بعد گھروں پر ڈرون حملے شروع ہوئے، تیراہ میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا، حتیٰ کہ ایک معصوم بچی کو شہید کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں پر بھی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں مزید قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ تمام اقدامات ملٹری آپریشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کیے گئے۔محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی نشاندہی کی تھی کہ تیراہ میں آپریشن کے ذریعے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ علاقے میں برف باری متوقع تھی، مگر ان کی بات نہ مانی گئی۔ بار بار منع کرنے کے باوجود تیراہ کے لوگوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا اور جب بند کمروں کے فیصلے ناکام ہوتے نظر آئے تو پریس ریلیز کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ لوگ خود علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔یہ پریس ریلیزدرحقیقت اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک طرف قبائلی عوام پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، یہ ہمارے ساتھ مذاق ہو رہا ہے مگر اس بار صوبے کے عوام اس مذاق کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ثابت کریں گے کہ قبائلی عوام دہشت گرد نہیں بلکہ غلط پالیسیاں دہشت گردی کو جنم دے رہی ہیں۔انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ صوبائی حکومت نے تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے کیوں مختص کیے، اور واضح کیا کہ یہ دراصل وفاق کی ذمہ داری تھی جو صوبائی حکومت اپنے وسائل سے پوری کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ سابقہ آپریشنز کے دوران وفاق نے بے گھر افراد کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو آج تک پورا نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ لوگ اپنے گھر کیلئے ایک ایک پر س اور سینڈل بھی چار لاکھ روپے کا لیتے ہیں جبکہ متاثرین کے تباہ شدہ گھروں کی تعمیر کیلئے بھی محض چار لاکھ روپے کا اعلان کرتے ہیں اور وہ بھی نہیں دیتے۔ انہیں شرم آنی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ آئی ڈی پیز سے کئے گئے وعدے بھی پور ے نہیں کئے گئے، جبکہ صوبائی حکومت اب تک اپنے وسائل سے سات ارب روپے سے زائد ادا کر چکی ہے ۔ آئی ڈی پیز کے 52 ارب روپے تاحال وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔اس کے علاوہ مجموعی طور پر صوبے کے 4758 ارب روپے وفاق کے ذمہ بقایا ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ متاثرین کے لیے چیف منسٹر ریلیف اکاو ¿نٹ کھولا جائے گا اور رجسٹریشن کے عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حقوق کے معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ملاقات کی دعوت ملی ہے، جس میں وہ صوبے کے عوام کا مقدمہ پوری قوت سے پیش کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ دیگر قبائلی اضلاع کے دورے بھی کریں گے کیونکہ تمام قبائل نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ایک خاص مائنڈ سیٹ ان کے وزیر اعلیٰ بننے سے ناخوش ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ قبائل قومی دھارے میں آئیں، حالانکہ قبائلی عوام تعلیم یافتہ، محب وطن اور آئین و قانون کے پابند ہیں، ہم آئین اور قانون کے دائرہ میںرہتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے ۔آخر میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ان واقعات کی شدید مذمت کرتی ہے اور شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔