News Details
01/02/2026
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ قیادت جاری اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں ضلع صوابی میں ریلی کا انعقاد کیا گیا
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے زیرِ قیادت جاری اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں ضلع صوابی میں ریلی کا انعقاد کیا گیا جو صوابی کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی امن چوک، وہاں سے ٹوپی اور پھر انبار میں اختتام پذیر ہوئی۔ کارکنان کی جانب سے جگہ جگہ وزیر اعلیٰ کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کثیر تعداد میں عوامی شرکت پر صوابی کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ صوابی کے عوام نے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنے قائد عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے پاکستان میں جاری ہے اور صوابی کے عوام کا جوش، جنون اور عمران خان سے محبت بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی تشویش ناک ہے، ہمارا مقصد بڑا اور واضح ہے اور ہم سب کا واحد ہدف اپنے قائد کی رہائی ہے۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مقصد پر نظر رکھیں، اپنے جنون کو زندہ رکھیں مگر کسی کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ اس جذبے کو ہمارے مقصد کے خلاف استعمال کرے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کا خوف ہر جگہ موجود ہے، اسی خوف کے تحت انہیں ناحق قید میں رکھا گیا ہے، مگر ہم مخالفین کے تمام ہتھکنڈوں اور سازشوں کے خلاف چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ نے مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں اور آٹھ فروری کو عوام اپنے جذبات اور جنون کا بھرپور اظہار کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عزت و ذلت، زندگی و موت اور رزق اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت میں ہے، اس لیے کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انبار میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج صوابی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر جگہ دفعہ 804 نافذ ہے اور آٹھ فروری کو عوام مینڈیٹ چوروں کے ظلم کے خلاف باہر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کا اب ایک ہی ایجنڈا رہ گیا ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کیا جائے، حالانکہ ناحق قید عمران خان واحد لیڈر ہیں جن کے پاس پاکستان کے استحکام اور عوامی فلاح کا واضح وڑن موجود ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے امن کے لیے ہزارہا جانوں کی قربانیاں دی ہیں، مگر بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے ایک بار پھر دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے جس سے صوبے کا امن تباہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پختونوں کے سروں کا سودا کیا جا رہا ہے، حالانکہ خیبرپختونخوا کوئی لیبارٹری نہیں جہاں تجربے کیے جائیں۔ انہوں نے ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو شہید کر کے دہشت گرد قرار دیا گیا، سوال یہ ہے کہ ان بے گناہ جانوں کا حساب کون دے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جب میں وزیر اعلیٰ بنا تو مجھے بھی دہشت گرد اور سمگلر کہا گیا، مگر یہ بیانیہ بھی ناکام ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں کے تحت تیراہ کے عوام کو دربدر کیا گیا اور اب ایک نیا بیانیہ لایا جا رہا ہے، مگر ہم نے ان کے ہر جھوٹے بیانیے کو شکست دی ہے اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے اور قوم کے خلاف بننے والی ہر پالیسی کے خلاف ہم ڈٹ کر کھڑے ہوں گے اور ساری دنیا کی دولت بھی میرے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی۔ وزیر اعلیٰ نے عمران خان کی صحت کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں آپریشن کر کے بات چھپائی گئی، خبر سامنے آئی تو انکار کر دیا گیا، اور جب آپریشن کی تصدیق ہو گئی تو ہم نے مطالبہ کیا کہ کم از کم عمران خان کے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی جائے، مگر یہ اجازت بھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر احتجاجی سیاست کا الزام لگایا جاتا ہے، حالانکہ اگر ہمیں حق اور انصاف دیا جائے تو احتجاج کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا مگر ملاقات تک کی اجازت نہ ملی، اور جب آئینی حق نہیں دیا جائے گا تو ہم اسی آئین کے تحت پ ±رامن احتجاج کا حق استعمال کریں گے۔ انہوں نے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حتمی کال کے منتظر رہیں، تیار رہیں اور کسی بھی سازش کا شکار نہ ہوں۔