News Details

29/01/2026

وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا ہزارہ ڈویژن میں ضلع ہری پور اور ایبٹ آباد کا دورہ

وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا ہزارہ ڈویژن میں ضلع ہری پور اور ایبٹ آباد کا دورہ پاک آسٹریا فخہ شولے یونیورسٹی میں سکول آف میڈیسن، ڈنٹسٹری اینڈ الائیڈ سائنسز کا افتتاح، یونیورسٹی آف ہری پور اور ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پاک آسٹریا فخہ شولے انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یونیورسٹی میں قائم نئے اسکول آف میڈیسن، ڈینٹسٹری اینڈ الائیڈ سائنسز کا افتتاح کیا۔ اسکول آف میڈیسن صوبائی حکومت اور یونیورسٹی کے اشتراک سے قائم کیا گیا ہے تاکہ جدید طبی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی کی تیز رفتار ترقی پر انتظامیہ اور اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت آئندہ بھی یونیورسٹی کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرے گی۔ انہوں نے قبائلی اضلاع میں فخہ شولے طرز کی جدید یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا اور بتایا کہ پشاور میں اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی اور صوبہ بھر میں مارکیٹ بیسڈ کورسز متعارف کرانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آوٹ ڈیٹڈ کورسز کی وجہ سے بے روزگاروں کی فوج پیدا کر رہے ہیں، اس لیے نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فخہ شولے کے بارے میں بہت تعریف سنی تھی اور آج خود دیکھ کر معلوم ہوا کہ یہ ہمارے قائد عمران خان کا وژن تھا اور اسی وژن کے مطابق ادارہ آگے بڑھ رہا ہے۔ صرف پانچ سال میں خود کفالت حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مضبوط قیادت اداروں کو اوپر اٹھاتی ہے جبکہ بار بار قیادت کی تبدیلی ترقی کو روکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجیم چینج آپریشن کے ذریعے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت گرائی گئی، جس کے بعد معیشت زوال پذیر ہوئی۔ عمران خان کے دور حکومت میں جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی جو اس کے بعد گرتی چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت تباہ حال ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان بیرون ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان تمام مسائل کی بنیادی وجہ بند کمروں کے فیصلے ہیں۔ آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں یہ بنائے گئے ہیں اور ایک مائنڈ سیٹ نہیں چاہتا کہ پختون قوم تعلیم حاصل کریں اور آگے بڑھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمیں قلم کی جگہ بندوق دی گئی، جب ضرورت ہو گی تو فوج سے پہلے بندوق اٹھائیں گے لیکن آج قلم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ کے حالات سب کے سامنے ہیں، برف باری میں لوگ دربدر ہونے پر مجبور ہیں۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کا یہی موقف ہے کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ دیرپا امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے جامع اور مستقل پالیسی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بند کمروں میں بیٹھے لوگ خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم آج بھی امن کی بھیک مانگ رہے ہیں اور وہ بھی اپنی ریاست سے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 سے 2022 تک پورے صوبے میں امن تھا لیکن ریجیم چینج کے بعد دوبارہ حالات خراب کیے گئے۔ ترقی کے لیے امن ضروری ہے مگر ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہمیں امن نہیں دے رہا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم اس مائنڈ سیٹ کو عوام کی مدد سے شکست دیں گے اور صوبے میں تعلیم، امن اور ترقی کے وژن کو عملی شکل دیں گے۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف ہری پور کے پانچویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے غازی میں یونیورسٹی آف ہری پور کے تحصیل کیمپس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو ضلعی اور تحصیل سطح تک وسعت دی جائے گی تاکہ نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں معیاری تعلیم میسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا صوبہ ہے اور عوامی خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن، صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور گزشتہ 100 دنوں کی حکومتی کارکردگی جلد عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فارم 47 کے مسلط شدہ کرپٹ ٹولے کو سیاست اور حکمرانی دونوں میدانوں میں شکست دے کر دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں بیرونی سازش کے ذریعے ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، صرف اس لیے کہ وہ ایک بیرونی ملک کو پسند نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے غیروں کی سرزمین پر مسلم ا ±مہ کے لیے آواز اٹھائی اور یہی بات بعض طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی اور میں ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی جرائ ت نہیں کیونکہ سب کو اپنے ذاتی مفادات عزیز ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کو شدید برفباری میں زبردستی گھروں سے نکالا گیا اور نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جبکہ کچھ وفاقی وزرا پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوگ خود برفباری کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تیراہ کے لوگ پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف بے شرم سیاستدان ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا گھر نہیں چھوڑتا اور ان لوگوں کو زبردستی نکالا گیا جبکہ انہیں کوئی مالی مدد بھی فراہم نہیں کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان سیاسی مسخروں کے مفادات پاکستان سے جڑے نہیں ہیں بلکہ ان کے مفادات صرف لوٹ مار سے وابستہ ہیں اور عوام کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانا ہی ان کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان میں ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یہ لوگ اس کا برا حشر کرتے ہیں لیکن وہ نہیں جھکیں گے۔ پوری دنیا کی طاقت ان کے ضمیر کا سودا نہیں کر سکتی اور وہ عوام کی مدد سے ان کا مقابلہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو بھی ان کے صوبے کے مفاد میں نہیں ہوگا وہ اس ہر پالیسی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی بیرونی جارحیت کا سامنا ہوا تو فوج سے پہلے پختون قوم ان کا مقابلہ کرے گی لیکن واضح کر دیا کہ صوبہ آئندہ کسی بیرونی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایبٹ آباد یونیورسٹی میں طلبہ سے مخاطب ہونا اعزاز کی بات ہے اور وہ فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم معاشرے کی ترقی کے لیے بالخصوص خواتین کے لیے نہایت ضروری ہے اور تعلیم یافتہ ماں ہی تعلیم یافتہ معاشرے کی ضامن ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت تعلیم نسواں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور سرکاری کالجز میں انٹرمیڈیٹ سطح کی طالبات اور یتیم بچوں کی تعلیم مفت کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پرائمری تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے، اگر بنیاد مضبوط ہو گی تو عمارت بھی مضبوط ہو گی، اسی لیے حکومت کی توجہ پرائمری تعلیم پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کیا گیا لیکن پی ٹی آئی حکومت نے تیرہ سال میں جو سرمایہ کاری تعلیم میں کی وہ گزشتہ 65 سال میں نہیں ہوئی۔ ضم اضلاع میں صوبائی حکومت نے سات سال میں جو اقدامات کیے وہ وفاق 65 سال میں نہ کر سکا۔ سابقہ فاٹا میں عوامی نمائندوں کا کوئی مو ¿ثر کردار نہیں ہوتا تھا اور وہ فارم 47 والوں کی طرح تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2004 سے 2018 تک جاری ملٹری آپریشنز نے قبائلی اضلاع کا سب کچھ تباہ کر دیا اور اب وفاقی حکومت سابقہ فاٹا کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ عمران خان کی منتخب حکومت گرانی ہے اور خیبر پختونخوا پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کرنی ہے۔ اب تیراہ کے عوام کو زبردستی بے گھر کیا جا رہا ہے اور صوبائی حکومت جو تعلیم دینا چاہتی تھی وہ حق دوبارہ چھینا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ضم اضلاع میں صحت کے نظام کو کسی حد تک بہتر کیا تھا مگر اب اسے دوبارہ تباہ کیا جا رہا ہے۔ سابقہ آپریشن میں گھر تباہ ہونے کی صورت میں وفاقی حکومت نے صرف چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو حکمرانوں کے قالین اور سینڈل کی قیمت کے برابر بھی نہیں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ رقم بھی متاثرین کو ادا نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 4750 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں اور آئی ایم ایف نے ان کرپٹ حکمرانوں کی 5300 ارب روپے کرپشن کی رپورٹ دی ہے۔ عمران خان کے دور میں جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تھی جو اب 2.7 اور 2.8 فیصد کے درمیان گھوم رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پریس ریلیز جاری کی کہ تیراہ کے متاثرین اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں، حالانکہ پہلے انہوں نے آپریشن کو قومی اسمبلی اور پریس کانفرنسز میں خود تسلیم کیا تھا، اب مکر گئے اور کہہ رہے ہیں لوگ خود گھر چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے حوالے سے صوبائی حکومت سے کوئی مشاورت یا رابطہ نہیں کیا گیا اور یہ بند کمروں کا فیصلہ تھا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں، اپنے عوام اور صوبے کے ساتھ کھڑے ہیں، نہ انہیں ڈرایا جا سکتا ہے نہ خریدا جا سکتا ہے اور وہ چٹان کی طرح اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے کھڑے رہیں گے۔