News Details

28/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے جا رہے ہیں

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے جا رہے ہیں اور بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو ریجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرانے کے بعد انہوں نے خیبر، ہزارہ، ملاکنڈ، ڈی آئی خان اور وزیرستان سمیت پورے صوبے میں جرگے اور امن پاسون منعقد کیے اور پختون قوم کو خبردار کیا کہ ان کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ڈی ایم کی حکومت ان انتباہات کو جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیتی رہی مگر پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلی اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو مسترد کیا وہاں آج بھی امن قائم ہے جبکہ جن علاقوں میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا وہاں آج دوبارہ بدامنی سر اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں عمران خان کی حکومت گرانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی دوبارہ مسلط ہوئی اور پاکستان کی معیشت تباہ ہو گئی، صنعتیں اور کارخانے بند ہو گئے اور نوجوان بیروزگار ہو گئے اور آج نوجوان ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج اگر کسی بھی ملک کا ویزہ مل جائے تو نوجوانوں کی بڑی اکثریت ملک چھوڑنے کے لیے تیار ہے کیونکہ روزگار کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بند کمروں کے فیصلوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے دہشت گردی مسلط کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی تیراہ میں بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو انہوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک بڑا جرگہ منعقد کیا گیا جس میں متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور ہوا اور تمام مکاتب فکر اور تمام سیاسی پارٹیوں کا موقف تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشران اور مقامی لوگوں سے مشورہ ضروری ہے جو علاقے کے رسم و رواج اور حالات کو بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بند کمروں میں ایک بار پھر تیراہ پر آپریشن مسلط کیا گیا اور کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ان جرگوں میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کو تیراہ سے نکالنا ہوگا کیونکہ جب تک لوگ موجود ہیں آپریشن ممکن نہیں۔ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر شدید دباو ¿ اور برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ برفباری کے باعث آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا، جس سے بند کمروں کے فیصلوں کے مقصد پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمجھا گیا تھا کہ لوگ مجھ سمیت صوبائی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف سے بدظن ہو جائیں گے مگر جب وہ تیراہ گئے تو انہیں بے مثال عزت اور محبت ملی۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی حالیہ پریس ریلیز کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ کے لوگوں کی رضاکارانہ نقل مکانی کا دعویٰ جھوٹ اور انتہائی خطرناک ہے جو صوبے اور وفاق کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اتوار کو دو بجے جمرود فٹبال اسٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جہاں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انہیں زبردستی بے دخل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دکھایا جائے گا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پر ظلم ہو رہا ہے اور یہ لوگ کوئی تجربہ گاہ یا کیڑے مکوڑے نہیں، ان کا خون سستا نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس پریس ریلیز کے بعد 24 رکنی کمیٹی، آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور کیے گئے وعدے غیر معتبر ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ اسی 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا کہ دو مہینوں کے اندر بے دخل ہونے والوں کو واپس لے جایا جائے گا۔ میں نے باڑہ کے دورے کے دوران اپنی قوم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے ان کے دو مہینوں کے وعدے پر کوئی بھروسا نہیں، کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا کہ شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود وہ دو مہینوں میں آپ کو واپس لے جا سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کیے ہیں جوکہ وفاق سے ہضم نہیں ہو رہے۔ گزشتہ آپریشنز میں تباہ ہونے والے گھروں کا چار لاکھ روپے معاوضہ آج تک ادا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نارتھ وزیرستان کے بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ معاوضے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر دس سال گزرنے کے باوجود فراہم نہیں کیا گیا اور آج صوبائی حکومت اپنے محدود بجٹ سے یہ بوجھ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں کے ذریعے پشتون قوم پر ظلم، خونریزی اور محرومیاں مسلط کی گئیں اور قوم نے 80 ہزار سے زائد شہادتیں دی ہیں، مگر اس کے باوجود دوبارہ دہشت گردی مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب مزید یہ سب نہیں چلے گا اور وہ پہاڑ کی طرح اپنی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ حق کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ اگر اس بار آواز نہ اٹھائی گئی تو جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، انہیں نہ خریدا جا سکتا ہے نہ دبایا جا سکتا ہے، اور وہ پوری دنیا کو حقیقت دکھائیں گے۔