News Details

20/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگہ وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا

‎ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگہ وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ضلع خیبر میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ کے متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اپنے گھر بار چھوڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک منظم مائنڈ سیٹ موجود ہے جو یہ نہیں چاہتا کہ پشتون، بالخصوص قبائلی عوام مین اسٹریم سسٹم کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہی مائنڈ سیٹ جو گذشتہ 75 سال سے ہمارے خلاف بنا ہوا ہے ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی ان کے خلاف گمراہ کن اور منفی پراپیگنڈا شروع کیا گیا، جو ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے خلاف افسوسناک طرز عمل ہے، تاہم عوامی حمایت سے اپنے خلاف ہر منفی بیانیے کو شکست دی۔انہوں نے کہا کہ اپنے عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے وہ صفِ اول میں کھڑے ہوں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب بھی ان کی قوم پر مشکل وقت آیا ہے، وہ چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتیں اور مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں اور امن کی بحالی چاہتے ہیں، تاہم 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو سکے گا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ بند کمروں کے فیصلے اگر تیراہ پر نافذ کیے گئے تو وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھاکہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ اگر صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا تو قوم کو بھی اعتماد میں لے کر اتفاقِ رائے سے کام کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن شروع کیا گیا جو مسائل کا حل نہیں۔جرگے کے دوران قومی مشران نے امن کی بحالی اور تیراہ متاثرین کی باعزت نقل مکانی سے متعلق اپنی تجاویز اور آرائ پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے تیراہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں تیراہ متاثرین کے لیے قائم رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو موقع پر ہی ہدایات جاری کیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تیراہ متاثرین کو ہر صورت تمام ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، خیبرپختونخوا حکومت قبائلی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے تنخواہ کے بغیر تقریباً 70 سال تک ملکی سرحدوں کی حفاظت کی، مگر افسوس کہ ریاست قبائلی عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بار بار منع کرنے کے باوجود ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا جس کے نتیجے میں آج لوگوں کو جبری طور پر اپنے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو ماہ کی مدت کے فیصلے سمیت کسی بھی معاملے پر صوبائی حکومت سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کسی بھی صورت تجربہ گاہ نہیں ہیں، مگر بدقسمتی سے ہر حکومت آ کر یہاں نئی پالیسی آزمانا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ناکام پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی اور آئندہ بھی ناکام رہے گی، اور صوبائی حکومت کسی صورت اس ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی ضلع سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوا ہے، اور بعض عناصر کو یہ حقیقت قبول نہیں، اس لیے قبائلی وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے وزیر اعلیٰ نامزد ہونے کے بعد مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ناکام پالیسیوں پر تنقید کرنے پر مجھے دہشت گردوں کا حمایتی قرار دیا جاتا ہے۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ مجھے ٹارگٹ کرنے کے لیے میرے علاقے کے عوام کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بندوقوں کا مقابلہ قلم اور شعور سے کریں گے اور اپنے بچوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم اور تعلیم دیں گے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم خون کے آخری قطرے تک آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور میں اپنی قوم کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔