News Details

14/01/2026

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں سیف سیٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں سیف سیٹیز منصوبے پر پیشرفت سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں جاری منصوبوں، توسیعی حکمت عملی اور ادارہ جاتی و قانونی فریم ورک پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا۔ اجلاس کو پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں جاری سیف سیٹیز منصوبوں پر بریفنگ دی گئی جس میں فیلڈ انفراسٹرکچر، نگرانی کے مرحلہ وار نفاذ اور انٹیگریٹڈ کمانڈ، کنٹرول اور کمیونیکیشن سینٹرز کی تعمیر و تیاری پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پشاور میں کلیدی شہری شاہراہوں، چوراہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر کیمروں اور پولز کی تنصیب جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ 31 جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں بھی ترجیحی مقامات پر کیمرہ نیٹ ورک اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام مرحلہ وار نصب کیا جا رہا ہے۔ ڈی آئی خان میں 88، بنوں میں 76 اور لکی مروت میں 47 مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں اور ان تینوں اضلاع میں بھی منصوبہ 31 جنوری تک مکمل ہو جائے گا تاکہ جلد از جلد عملی نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان میں سیف سیٹیز منصوبے کے لیے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے جبکہ ان اضلاع میں مقامات کی نشاندہی اور سیکیورٹی ضروریات کے مطابق ابتدائی تیاری بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ اجلاس میں ضم اضلاع کے لیے علیحدہ سیف سٹی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا جس میں جغرافیائی صورتحال، سیکیورٹی حساسیت، انفراسٹرکچر کی دستیابی اور آپریشنل تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار نفاذ پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ صوبے کے باقی ماندہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز تک سیف سٹی منصوبے کی توسیع سیکیورٹی ترجیحات، آبادی کے دباو ¿ اور آپریشنل فزیبیلٹی کی بنیاد پر مرحلہ وار کی جائے اور یہ عمل جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد شروع کیا جائے۔ موجودہ نگرانی کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لیے صوبہ بھر میں ہوٹلوں، پلازوں، تجارتی عمارتوں، رہائشی علاقوں، ہاوسنگ سوسائٹیز اور دیگر نجی مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی نشاندہی، میپنگ اور انہیں سیف سٹی نظام میں شامل کرنے کا عمل تکنیکی مطابقت، قانونی تقاضوں اور شہریوں کی پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔ اسی طرح تعلیمی اداروں خصوصاً اسکولوں میں نصب کیمروں کو بھی جہاں ممکن ہو سیف سٹی نظام سے منسلک کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے سیف سٹی منصوبے کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کے پیش نظر ایک واضح قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ سیف سیٹیز اتھارٹی کے قیام کے لیے جامع تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ فریم ورک میں گورننس، نگرانی کے ڈیٹا کے قانونی استعمال، تفتیش اور عدالتی کارروائی میں شواہد کے طور پر اس کے استعمال، ڈیٹا تحفظ، شہریوں کی پرائیویسی، بین الادارہ رسائی اور تکنیکی عملے کی بھرتی و تربیت سے متعلق تمام پہلوو ¿ں کا احاطہ ہونا چاہیے تاکہ منصوبے کو مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع میں سیف سیٹیز منصوبے کے لیے چوبیس گھنٹے سولر انرجی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقوں میں جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی حکومت کی ترجیح ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پورے خیبر پختونخوا کو مرحلہ وار سیف سٹی میں تبدیل کیا جائے گا اور امن و امان اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سیف سیٹیز منصوبہ جرائم کی روک تھام، فوری ردعمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں انقلابی بہتری کا ذریعہ بنے گا اور یہ منصوبہ صوبے میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد ثابت ہوگا۔