News Details

02/01/2026

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت پشاور نادرن بائی پاس منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت پشاور نادرن بائی پاس منصوبے سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور اس کی تکمیل کیلئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ نے زیرِ تعمیر نادرن بائی پاس منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے 3.9 ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے علاوہ نادرن بائی پاس پر دو انڈر پاسز اور ایک پل کی تعمیر کے لیے درکار ایک ارب روپے بھی صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کے دوران نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے منصوبہ جون 2026 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیرِ اعلیٰ نےمنصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کے باعث پشاور نادرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔اُنہوں نے کہاکہ وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبر پختونخوا کے ترقیاتی منصوبے مجموعی طور پر سست روی کا شکار ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ناردرن بائی پاس عوامی مفاد کا ایک اہم منصوبہ ہے ، صوبائی حکومت اس کی جلد تکمیل کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی، جس سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔اجلاس کو منصوبے پر اب تک کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 23.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور مجموعی فنانشل پراگریس 85.6 فیصد ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیکج ون پر فزیکل پراگریس 100 فیصد مکمل ہو چکی ہے، پیکج ٹو پر 64 فیصد، پیکج تھری پر 86.6 فیصد جبکہ پیکج تھری اے پر 69 فیصد فزیکل پراگریس حاصل کی جا چکی ہے۔اجلاس میں مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، نیشنل ہائی ویز کے ممبر، کمشنر پشاور اور متعلقہ صوبائی محکموں کے حکام نے شرکت کی۔