News Details

01/01/2026

صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے تحت ای۔آبیانہ ایپ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے

صوبائی حکومت نے ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے محکمہ آبپاشی کے تحت ای۔آبیانہ ایپ کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقدہ تقریب میں ای۔آبیانہ ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ابتدائی مرحلے میں ای۔آبیانہ سسٹم کو مردان آبپاشی ڈویژن میں بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے بعد اس جدید نظام کو مرحلہ وار پورے صوبے میں نافذ کیا جائے گا۔نئے نظام کے تحت آبیانہ کی وصولی کا پورا نظام ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے جس کے تحت ریکارڈ محفوظ، شفاف اور صارفین کے لیے بآسانی قابلِ رسائی ہوگا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ زمین اور پانی کے استعمال سے متعلق ڈیٹا کو ایک مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے منسلک کیا گیا ہے جس سے ریکارڈ کی درستگی میں اضافہ اور محکمے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جدید نظام کے نفاذ سے ریوینیو جنریشن کے سالانہ اہداف بآسانی حاصل کیے جا سکیں گے جبکہ آبیانہ وصولی کی کم شرح، ادائیگی میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل بھی مو ¿ثر انداز میں حل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی سطح پر نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی کے لیے جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈز فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای۔آبیانہ ایپ کے کامیاب اجرا پرمحکمہ آبپاشی، محکمہ سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام شفاف طرزِ حکمرانی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت قائدعمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹائزیشن کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے تحت سرکاری محکموں کے امور کو بتدریج ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی محکموں کے 60 سے 70 فیصد امور پہلے ہی ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں جبکہ ہدف ہے کہ رواں مالی سال جون تک ڈیجیٹائزیشن کا عمل سو فیصد مکمل کر لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کسان ہمارے معاشرے کا ایک اہم ستون ہیں اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ عمران خان کے وژن کے مطابق کسان برادری کو ہمیشہ تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کو دیرپا ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے چشمہ رائٹ بینک لفٹ کنال کے دیرینہ منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ وفاق کی عدم سنجیدگی کے باعث تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ سی آر بی سی منصوبے کے لیے اپنے حصے کا شیئر ادا کر چکا ہے تاہم مسائل وفاق کی جانب سے درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے کسی بھی اقدام کے لیے سنجیدہ تعاون نہیں کر رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ گبرال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے لیکن گزشتہ آٹھ ماہ سے وفاق کو مراسلے لکھے جا رہے ہیں کہ غیر ملکی ورکرز کو کام کرنے کے لیے این او سی جاری کیا جائے، جو تاحال جاری نہیں کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ وفاق کا یہ متعصبانہ رویہ صوبے کے عوام میں نفرت اور احساسِ محرومی کو جنم دے رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں مسلسل ڈیلیور کرتی آئی ہے اور کارکردگی کی بنیاد پر عوام نے مسلسل تیسری مرتبہ ہم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جبکہ محض خدمت کے دعویداروں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں قابض عناصر خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، وفاق صوبے کے اربوں روپے کے بقایاجات ادا نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا کہ جو تھوڑی بہت فسکل ریلیز دی جاتی ہے اس پر بھی میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، جبکہ وفاق کو چاہیے کہ وہ دیگر صوبوں کی فسکل ریلیز کا بھی میڈیا ٹرائل کرے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک پورے ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عمران خان ناحق قید ہیں اور ان پر سزاوں پر سزائیں دی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن کے باوجود کوئی سوال نہیں اٹھایا جا رہا، جو دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔