News Details
31/12/2025
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ری وائیٹلائزیشن آف پشاور پلان سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ری وائیٹلائزیشن آف پشاور پلان سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا جس میں صوبائی دارالحکومت کے مجموعی شہری ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، بنیادی سہولیات کی بہتری، تاریخی ورثے کے تحفظ اور پشاور کو ایک خوبصورت اور صاف شہر بنانے کے لیے دور رس فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں ری وائیٹلائزیشن پلان پر موثر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ تمام متعلقہ اداروں کو واضح ٹائم لائنز کے ساتھ پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج، ڈرینج اور واٹر سپلائی کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جائے اور شہر میں اربن فارسٹیشن کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے والڈ سٹی اور ہارٹیکلچر اتھارٹی کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو باقاعدہ ہوم ورک شروع کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پشاور صوبے کا چہرہ ہے اور اسے خوبصورت بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پشاور کی اپ لفٹ کے لیے تمام وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں گے۔اجلاس کو پلان سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت 165 کلومیٹر طویل 34 مرکزی شاہراہوں کی اپگریڈیشن، اپ لفٹنگ، جدید لائٹنگ اور بیوٹیفیکیشن کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نئے ذبح خانوں کی تعمیر، نئی سبزی منڈیوں کا قیام، بس اڈوں کی اپگریڈیشن اور دیگر شہری سہولیات میں بہتری کے اقدامات بھی پلان کا حصہ ہیں۔ ٹریفک کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ورٹیکل پارکنگ، نئے انڈر پاسز اور فلائی اوورز تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ پیر زکوڑی فلائی اوور سے سوری پل اور امن چوک سے کارخانو تک بجلی کی تاروں کو انڈر گراونڈ کیا جائے گا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ شہر میں موجود پارکوں کی اپ لفٹنگ کی جائے گی اور دریائے کابل کے کنارے ایک نیا تھیم پارک تعمیر کیا جائے گا۔ اسی طرح حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ سے نادرن بائی پاس لنک روڈ اور ناصر باغ روڈ سے ریگی ماڈل ٹاون تک مسنگ لنک کی تعمیر بھی اس منصوبے میں شامل ہے جبکہ پیر زکوڑی انٹر سیکشن پر جدید طرز کا کلوور لیف انٹرچینج تعمیر کیا جائے گا۔ اسی طرح حیات آباد میں ہائی ٹیک چلڈرن پارک کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور میں موجود تاریخی مقامات جن میں گور گھٹری، سیٹھی حویلی اور بی بی جان مزار شامل ہیں کو ان کی اصل حالت میں بحال کیا جائے گا جبکہ چوک یادگار میں اسٹیٹ آف دی آرٹ فوڈ اسٹریٹ قائم کی جائے گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صفائی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے نئے روڈ الیکٹرک کلینرز کی خریداری، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قیام اور شاہی کٹھہ کی بحالی سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر محمد سہیل آفریدی نے ہدایت کی کہ ری وائیٹلائزیشن پلان پر عملدرآمد کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کر کے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل اور عملی پیشرفت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کو حقیقی معنوں میں ایک جدید اور خوبصورت شہر بنایا جا سکے۔ صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی ، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، سیکرٹری بلدیات ، کمشنر پشاور ، ڈی جی پی ڈی اے، ڈپٹی کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام اجلاس میں شریک ہوئے۔