News Details

30/12/2025

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا 44واں اجلاس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اپنے حالیہ تین روزہ پنجاب دورے کے دوران پنجاب حکومت کے رویّے پر سخت تحفظات کا اظہار کیاہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کا رویّہ غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور قابلِ مذمت ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ دورے کے دوران خیبر پختونخوا کے کابینہ اراکین کو تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے مسلسل راستے بند کیے گئے، بازاروں کو زبردستی بند کروایا گیا، پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے پر ریسٹ ایریاز بند کروائے گئے اور مزارِ اقبال پر حاضری کے دوران لائٹس بھی بند کر دی گئیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب حکومت کا یہ رویّہ اخلاقی اور ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں معاشی اور سیاسی عدم استحکام کے دوران اس قسم کا طرزِ عمل نہ صرف تشویش ناک بلکہ ناقابلِ فہم ہے۔ قومی یکجہتی کے متقاضی حالات میں نفرت آمیز رویّے ملک کے لیے نقصان دہ ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت پنجاب حکومت کے اس رویّے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری افسران کو ہدایت کی کہ دیگر صوبوں سے آنے والے سرکاری وفود کے ساتھ روایات سے بڑھ کر حسنِ سلوک کیا جائے اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں کسی کو بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی فنڈز کی عدم ادائیگی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے ذمے خیبر پختونخوا کے 4758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی وزارتِ خزانہ نے منگھڑت پروپیگنڈے کے ذریعے فسکل ریلیز سے متعلق میڈیا ٹرائل کی کوشش کی۔ وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو دیے گئے فنڈز کی مکمل تفصیلات سامنے لائے اور خیبر پختونخوا کے بقایاجات کا دیگر صوبوں کے بقایاجات سے موازنہ بھی پیش کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ بقایاجات کے حوالے سے باضابطہ خطوط لکھے جائیں اور تحریری جوابات حاصل کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے کی بھی ہدایت کی اور صحت و تعلیم کو صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وژن کے مطابق ہیلتھ اور ایجوکیشن خیبر پختونخوا حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں بہتری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اجلاس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز, سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے کابینہ اجلاس کے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے صوبے میں اسلامی اصولوں کے تحت تکافل کمپنیوں کے قیام کی منظوری دی ہے۔ اس منظوری کے تحت خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی قائم کی جائیں گی۔ کابینہ نے جنرل تکافل کمپنی کے لیے 2 ارب روپے اور فیملی تکافل کمپنی کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں خیبر بینک کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ صوبے میں اس نوعیت کا کوئی نیا ادارہ قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنرل تکافل کمپنی صحت اور دیگر رسک سے متعلق معاملات دیکھے گی، جبکہ فیملی تکافل کمپنی خاندان کے سربراہ کی وفات کی صورت میں خاندان کی کفالت کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3,825 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ سیف سٹی منصوبے کا آغاز پہلے مرحلے میں پشاور سے کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان سمیت مزید اضلاع کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سیف سٹی منصوبے میں نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے، جہاں بعض اہداف پر 80 فیصد جبکہ دیگر پر 50 فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دیگر شہروں میں بھی سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ سکوپ آف ورک میں اضافے کے باعث اضافی گرانٹ کی ضرورت پیش آئی، جس کی منظوری کابینہ نے دے دی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی کی جانب سے سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات اجلاس میں پیش کی گئیں، جن کے تحت انضمام سے رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے لیے نامنکلیچر کی منظوری دی گئی ہے۔ قواعد و ضوابط پر پورا اترنے کی صورت میں ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل بھی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر برقرار رکھنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اسلام آباد میں سمال انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بورڈ کے پلازہ میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل قائم کرنے، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیلِ نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی اور دیگر ترقیاتی ضروریات کے لیے 199 ملین روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاو ¿نڈیشن کے لیے 168 ملین روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاو ¿سنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 49 ملین روپے کی لاگت سے چار گاڑیوں کی خریداری کی بھی اجازت دی۔ اجلاس میں سال 2025 کے سیلاب کے دوران رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کو ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت کی منظوری دی گئی۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو رواں سال 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ پروگرام تین سالوں پر مشتمل ہوگا، جس کے تحت ہر سال 850 قابل نوجوانوں کو سکولوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے کی منظوری بھی دی ہے۔ اسی طرح مالی مشکلات کے باعث علاج سے محروم نو مریضوں کو مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پشاور کے چھ بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے لیے پروجیکٹ لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی۔ پانچ آو ¿ٹ سورس کیے گئے ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدے کرنے، پاک بھارت جنگ کے شہدائ اور زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور سابق رکن متحدہ علماء بورڈ شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے سولین وکٹم کمپنسیشن کے تحت ایک ملین روپے کے پیکیج کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی شفیع جان نے گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں ماورائے عدالت خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ کابینہ نے اس واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔