News Details

28/12/2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے دورہ لاہور کے دوسرے روز پاکستان تحریک انصاف کے اسیر رہنماوں مخدوم شاہ محمود قریشی ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری اورمیاں محمودالرشید کی رہائش گاہوں کا دورہ کیا

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اپنے دورہ لاہور کے دوسرے روز پاکستان تحریک انصاف کے اسیر رہنماوں مخدوم شاہ محمود قریشی ، ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری اورمیاں محمودالرشید کی رہائش گاہوں کا دورہ کیا اور انکے اہلخانہ سے ملاقات کی۔خیبر پختونخوا کے متعدد اراکین صوبائی اسمبلی بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔ ملاقاتوں میں موجودہ سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے قید رہنماو ¿ں کی سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ رہنماوں کی جرات مندانہ قیادت اور مشکل حالات میں استقامت کارکنان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ قید رہنماوں کی اصولی سیاست اور جمہوری اقدار پر ثابت قدمی لائق تحسین ہے۔محمد سہیل آفریدی نے لاہور میںعمران خان کی رہائش گاہ زمان پا رک کا بھی دورہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کا دورہ کیا اور بار ایسوسی ایشن سے بھی خطاب کیا۔ محمد سہیل آفریدی نے لاہور میں انصاف سٹوڈنٹ فیڈریش کے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے قائد عمران خان کی جانب سے حکم آچکا ہے کہ ہم نے سٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرنی ہے۔ اس حقیقی آزادی کی جدوجہد میں وکلاء برادری نے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہے کیونکہ جس طرح آئین میں ترامیم پہ ترامیم کر کے عدالتوں کو مفلوج کیا گیا ا سکی مثال نہیں ملتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز حکم دیتے ہیں کہ عمران خان سے میری ملاقات کرائی جائے لیکن ایک جیل کا سپرنٹینڈنٹ تین ججز کے آرڈر کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے اور کوئی پوچھنے والا تک نہیں۔ججز خطوط لکھ رہے ہیں کہ ہمارے فیصلوں میں مداخلت ہو رہی ہے، خوددار ججز استعفے دے رہے ہیں تو ہم نے آئین اور قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ کی بحالی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جد وجہد جاری رکھنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلاءبرادری نے ہر ممکن کوشش کرنی ہے کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو۔ ہمارا آئین ہمیں جلسہ اور احتجاج کرنے کی اجازت دیتا ہے مگرپنجاب میں ہمارے ایک ہزار سے زائد کارکنوں کو اٹھا لیا گیا ہے، پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا لہرانے کی اجازت تک نہیں ہے۔ وکلاءبرادری نے حق و سچ اور آئین کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، حقیقی آزادی کی یہ جنگ ہم ضرور جیتیں گے اور وہ وقت دور نہیں کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی ہوگی، آزاد میڈیا کی بحالی ہوگی اور پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنے گا۔ قبل ازیں ، سیاسی قائدین کی رہائش گاہوں پر موجود میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ لاہور دورے کا مقصد ہمارے جتنے بھی ناحق قید اسیران ہیں انکے اہلخانہ سے ملاقات کرنا اور انکے ساتھ یکجحتی کا اظہار کرنا ہے۔ ہماری جتنی بھی سیاسی لیڈر شپ اور کارکنان جو اس وقت نا حق قید ہیں یہ سب ہمیں حوصلہ دیتے ہیں۔ عمران خان کے حقیقی ساتھی جو برے وقت میں عمران خان کے ساتھ فسطائیت اور ظلم و جبر کے باوجود ڈٹ کر کھڑے ہیں تو انہیں دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتا ہے اور ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی اپوزیشن جماعتیں موجود ہیں اور انہیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کا بھرپور موقع دیا جاتا ہے، وزیر اعلیٰ اور صوبائی حکومت پر بھی تنقید ہوتی ہے مگر پنجاب میں جو ہو رہا ہے تو یہ جمہوری روایات اور اقدار کے منافی ہے اور یہ جعلی حکومت کی ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمارے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا یہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جو لوگ جعلی طریقے سے اقتدار میں آئے ہیں خواہ وفاق میں ہیں یا پنجاب میں انکا انٹرسٹ صرف پیسے بنانا ہے اور جب اقتدار سے نیچے اتر جائیں پھر ملک چھوڑ کر بھاگنا ہے۔ مزید کہا کہ ہمارے لیڈر کی پہچان ہے کہ وہ ہماری قومی یکجہتی کی علامت ہیں ، ہم نے ایک دوسرے کی عزت بھی کرنی ہے، پنجاب کے عوام کی طرف سے ہمیں جو پیار اور عزت مل رہی ہے وہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایک اور جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پنجاب کے لوگ عمران خان کے لیے نکلے تھے، پی ٹی آئی نے 180 نشستیں جیتیں مگر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور جعلی حکمرانوں کو مسلط کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مذاکرات اور مزاحمت دونوں کی ذمہ داری تحریک تحفظ آئین پاکستان کی لیڈرشپ کو سونپی ہے اور انکی طرف سے جو بھی فیصلہ ہوگا اسے مکمل سپورٹ کیا جائے گا۔ پنجاب میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا ہے یہ ہمارے ذہنوں میں نقش ہو گیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ حالانکہ کے جعلی طریقے سے وزیر اعلیٰ بنی ہے مگر میں انہیں دعوت دیتا ہوں وہ خیبر پختونخوا آئیں میں انہیں اس منصب کی جو عزت و تکریم ہے وہ بتاو ¿ں گا کہ جمہوری قوتیں کیسے اقدار و روایات کا خیال رکھتی ہیں۔ ایک اور جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی مرضی کے مقام پر خیبر پختونخوا میں جلسہ کریں میں لاہور میں جلسہ کروں گا دیکھتے ہیں کون زیادہ بڑا جلسہ کرتا ہے۔