News Details

26/12/2025

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کا مختصر دورہ کیا،

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کا مختصر دورہ کیا، جہاں انہوں نے تحصیل باڑہ میں مقامی عمائدین اور عوام کے جرگے سے خطاب کیا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ رجیم چینج کے ذریعے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور اس کے بعد ہمارے خلاف جھوٹے اور منظم بیانیوں کے ذریعے ہمیں نشانہ بنایا گیا، تاہم پاکستان تحریک انصاف نے ان بیانیوں کو ناکام بنایا ہے اور آئندہ بھی ناکام بناتی رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے مستقل امن کے قیام کے لیے خیبر پختونخوا گرینڈ امن جرگے کا انعقاد کیا، جس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کی نمائندگی موجود تھی، اور اس جرگے نے 15 نکاتی متفقہ اعلامیہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن جرگے میں متفقہ طور پر کسی بھی نئے آپریشن کی مخالفت کی گئی تھی، تاہم اب اسی متفقہ امن ایجنڈے کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے خلاف منظم پروپیگنڈے کے ذریعے یہ جھوٹا تاثر دیا جا رہا ہے کہ آپریشن کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیراہ میں شدید برفباری کے دوران آپریشن کا ڈھونگ رچانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خودساختہ دہشتگردی کے بیانیے کی آڑ میں حکومت مخالف فضا بنانے کے لیے آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی نیت امن کی ہوتی تو صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا جاتا، کیونکہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ملٹری آپریشن کے معاملے پر ہم عمران خان کے مو ¿قف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قبائلی عوام سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائل کوئی تجربہ گاہ نہیں بلکہ یہاں بھی انسان بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے قبائلی عوام کو 78 سال تک محرومی میں رکھا وہ آج بھی یہی چاہتے ہیں، مگر ہم ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابقہ فاٹا کے انضمام کے وقت دس سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوا، اور وفاقی فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضم اضلاع کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبائی حکومت ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے جامع ترقیاتی پیکج پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں عوامی ضروریات کو ترقیاتی ترجیحات میں اولین حیثیت دی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ عمران خان کی ہدایت کے مطابق اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری جاری ہے، جسے پوری قوت اور رفتار کے ساتھ فیصلہ کن مرحلے تک لے جایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان نے مذاکرات اور مزاحمت سے متعلق تمام اختیارات تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کو دے دیے ہیں اور تحریک کی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، پاکستان تحریک انصاف اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تاحال کسی سرکاری نمائندے نے مجھ سے مذاکرات یا کسی اور معاملے پر رابطہ نہیں کیا۔ دورے کے اختتام پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے جمرود میں مریض بچی زینب کے گھر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مریضہ اور موقع پر موجود خصوصی بچوں سے ملاقات کی اور ان سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ انہوں نے بچی سے اس کے گھر آنے کا وعدہ کیا تھا جو آج پورا کر دیا گیا۔