News Details
20/03/2025
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی کوششوں سے گزشتہ 25 دنوں سے بند طورخم پاک افغان بارڈ کھولنے کےلئے مذاکرات کامیاب ہوگئے اور طور خم بارڈر آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی کوششوں سے گزشتہ 25 دنوں سے بند طورخم پاک افغان بارڈ کھولنے کےلئے مذاکرات کامیاب ہوگئے اور طور خم بارڈر آمدورفت کے لئے کھول دیا گیا۔ کامیاب مذاکرات کے بعد طورخم بارڈر کھولنے کے سلسلے میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے بنائے گئے جرگہ اراکین نے بدھ کے روز اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملاقات کی اور طورخم بارڈر کھولنے کےلئے نتیجہ خیز اور بروقت کوششیں کرنے پر وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ ملاقات میں جرگہ اراکین نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے کاروباری اور صنعتی حضرات کے ساتھ عام لوگوں بھی کو بے انتہا مسائل کا سامنا تھا، تاجر برادری کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بارڈر کھولنے کےلئے تمام متعلقہ فورمز پر کوششیں کیں جس پر تمام کاروباری حضرات وزیر اعلیٰ کے بے حد مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس مسئلے کے حل کےلئے قائدانہ اور موثر کردار ادا کیا، 25 دنوں سے بارڈر بند رہنے کی وجہ سے دونوں اطراف 12 ہزار مال بردار گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں اور ہزاروں لوگوں کا اربوں روپے مالیت کاروبار متاثر ہوا تھا۔ جرگہ اراکین میں خیبر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے شامل تھے۔ جرگے کی قیادت خیبر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر اور سربراہ سید جواد حسین کاظمی کر رہے تھے۔ جرگے کے دیگر اراکین میں حاجی محمد یوسف آفریدی، حاجی قدیر اللہ وزیر، سید حماد، واجد علی شنواری، حاجی اقبال خان، حاجی لطیف اور دیگر شامل تھے۔صوبائی وزیر سماجی بہبود سید قاسم علی شاہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ جرگہ اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بارڈر کھولنے کےلئے کامیاب مذاکرات پر جرگہ اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں جرگے کی کوشش قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں طورخم بارڈر کی بندش سے دونوں اطراف کے کاروباری لوگوں کے ساتھ عام عوام کو مشکلات درپیش تھیں جسے نہ صرف کاروباری لوگوں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آنے والے عید الفطر کے پیش نظر تورخم بارڈر کا کھولنا انتہائی ضروری تھا، یہ کامیابی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا اور ہم آئندہ بھی اس طرح کے مسائل کے حل کے لئے مل کر کوششیں کریں گے۔
<><><><><><><>