News Details
17/03/2025
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپورنے اپنی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپورنے کہا ہے کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا اس وقت صوبائی حکومت کے خزانے میں صرف پندرہ دنوں کی تنخواہ کے پیسے موجود تھے، جبکہ ہم نے بہتر مالی نظم و نسق کے ذریعے ایک سال کے دوران 169 ارب روپے کا سرپلس بجٹ دیا ہے ، بغیر کسی نئے ٹیکس لگاکے صوبائی حکومت کے آمدن میں 55 ارب روپے کا اضافہ کیا، 72 ارب روپے کے بقایاجات اداکئے، ترقیاتی منصوبوں کےلئے مختص رقم جاری کرنے کے علاوہ مزید 30 ارب روپے اضافی جاری کر رہے ہیں۔ وہ اتوار کی شام اپنی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو صوبے پر 752 ارب روپے کا قرضہ تھا اس ایک سالہ کے دوران ہم نے ایک روپیہ بھی قرضہ نہیں لیا بلکہ 50 ارب روپے قرضہ واپس بھی کیا۔ ہم نے مالی خودمختاری اور خود کفالت کے سلسلے میں عمران خان کے وژن کے مطابق قرضے اتارنے کےلئے 30 ارب روپے کے فنڈز سے ڈیبٹ منیجمنٹ فنڈ قائم کیا جس سے اس سال کے آخر تک بڑھا کر 50 ارب روپے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے استعداد کے حامل شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، صوبے میں نیٹ ہائیڈل پن بجلی کا بہت بڑا استعداد موجود ہے جس کو استعمال میں لانے کےلئے کام شروع کر دیا گیا ہے اور انشاءاللہ سال 2028 تک صوبے کی بجلی کی اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا جائے گا، بجلی کی اس پیداوار کو سستی نرخوں پر مقامی صنعتوں کودینے کے 18 ارب روپے کی لاگت سے ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں صنعتوں کو ترقی ملے گی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ موجود ہ صوبائی حکومت اس رمضان میں مستحق گھرانوں کو 20ارب روپے کا رمضان پیکج دے رہی ہے ، گزشتہ ایک سال کے دوران تمام سکالر شپس اور وضائف ڈبل کئے گئے ہیں ۔ زکوٰة کی رقم کو 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار کردیا گیا جبکہ جہیز کی رقم کو 25ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے خسارے کو حامل اداروں کو اپنے پاو ¿ں پرکھڑا کرنے کےلئے انڈومنٹ فنڈز قائم کئے ہیں جن میں یونیورسٹیز ، ڈبلیو ایس ایس سیز اور دیگر ادارے شامل ہیں اور انشاءاللہ رواں سال کے آخر تک ہم نے ایسے تمام اداروں کو اپنے پاو ¿ں پر کھڑا کر دےں گے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی آمدن میں جو بھی اضافہ کیا ہے وہ کوئی نیا ٹیکس لگا کر نہیں کیا یہ پیسہ پہلے ہی سے سسٹم میں موجود تھا لیکن مالی نظم و نسق نہ ہونے کی وجہ سے کسی اورکے جیبو ں میں جا رہا تھا۔ وزیراعلیٰ کا مزیدکہنا تھا کہ صوبے میں کئی سالوں سے جاری منصوبے مکمل نہیں ہو رہے تھے او ر ہر سال لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا ہم نے ایسے تمام منصوبوں کی نشاندہی کرکے اسے اسی سال مکمل کرنے کی ترجیحی بنیادوں پر فنڈز قائم کر دئیے ہیں۔ ہماری کارکردگی جتنی بھی ہے اور جو بھی ہے وہ حقائق پر مبنی ہے ، ہم کوئی بھی چیز بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کر رہے ہیں، ہم اپنی کارکردگی کے حوالے سے جو بھی بتائیں گے وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ہماری شاندار کارکردگی کی کامیابی بہتر ٹیم کا نتیجہ ہے جس کےلئے میں کابینہ اراکین اور پارلیمینٹرینز سمیت سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک وفاق میں عمران خان کی حکومت تھی ملک میں مثالی امن تھا اور جب عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی تو امن و امان کی صورتحال خراب ہوتی چلی گئی۔ اور یہ مسئلہ میں نے بارہا وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے لیکن وفاق کی طرف سے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آرہی بلکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کا موازنہ پنجاب سے موازنہ کرکے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جارہی ہے،جو افسوسناک ہے ۔ آج امن و امان کی موجودہ خراب صورتحال وفاق کی نااہلی ہے ابھی بھی وقت ہے کہ اس سلسلے میں سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ میں نے شروع دن سے صوبے اور ملک میں پائیدار امن کےلئے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی بات کی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی اور بلا آخر وفاقی حکومت افغانستان کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوگئی ہے، جس کے بعد ہم نے متعدد جرگے اور اجلاس منعقدکرکے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے تیاری مکمل کرلی اور مذاکرات کےلئے ٹی او آرز بناکر منظوری کےلئے وفاق کو بھیج دی لیکن دو مہینے گزنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خیرپختونخوا پولیس اور عوام دہشتگردی کا فرنٹ لائن میں مقابلہ کر رہے ہیں، ہمیں پولیس کی قربانیوں اور کارکردگی پر فخر ہے اس پر تنقید ہم کسی صورت برداشت نہیں کر یں گے۔ وفاق سے جڑے صوبے کے مالی معاملات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 میں سابقہ قبائلی اضلاع صوبے میں ضم ہوئے جس کے نتیجے میں صوبے کی آبادی میں اضافہ ہوا لیکن ابھی تک صوبے کو این ایف سی میں ضم اضلاع کا حصہ نہیں مل رہا، میر ی باربا رآواز اٹھانے کے بعد میرے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے کہ این ایف سی پر نظرثانی کی جائے گی۔ اگر نہ کیا گیا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے اور یہ احتجاج سیاسی نہیں بلکہ یہ صوبے کے تمام سیاسی پارٹیوں ،عوام اور ملازمین احتجاج ہوگا۔ پن بجلی کی بقایاجات کی مد میں وفاق کے ذمہ دو ہزار ارب سے زائد کے واجبات ہے ،اس طرح کا ضم اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام اور دہشتگردی کی مد میں وفاق کے ذمہ صوبے کے اربوں روپے کے بقایا جات ہے اگر ہمیں یہ ہمارا یہ آئینی حق مل جائیں تو ہم اپنی پولیس کو مستحکم کریں گے اور ضم اضلاع کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے ۔ وفاقی حکومت کی ان اقدامات کی وجہ سے خیبرپختونخوا اور ضم اضلاع کے لوگوں کا اعتماد خراب ہورہا ہے جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کےلئے ضروری ہے کہ حکومت پر عوام کا اعتماد ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہابدقسمتی کے ماضی میں پولیس کو مستحکم کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہم نے آتے ہی پولیس کو ہر ممکن وسائل فراہم کئے ، پولیس کےلئے ہتھیار، گاڑیاں اور دیگر آلات کی خریداری کا عمل جاری ہے ۔ افغان مہاجرین کے انخلاءکے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ افغان شہری ہمارے پڑوسی ہیں اور رہیں گے ۔ان کا انخلاءپشتون روایات کے مطابق باعزت اور باوقار طریقے سے ہونا چاہیئے جس کے لئے ضروری ہے کہ افغانستا ن میں ان کی دوبارہ آباد کاری کےلئے درکار پیشگی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔