News Details

15/05/2024

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تیاری سے متعلق اجلاس کا دوسرا دور منگل کے روز منعقد ہوا جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے محکمہ صحت، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور زراعت کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت اگلے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کی تیاری سے متعلق اجلاس کا دوسرا دور منگل کے روز منعقد ہوا جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے محکمہ صحت، ابتدائی و ثانوی تعلیم اور زراعت کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا۔ صوبائی کابینہ اراکین سید قاسم علی شاہ ، میجر (ر) محمد سجاد بارکوال ، فیصل خان ترکئی، بیرسٹر محمد علی سیف کے علاوہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ و ڈویلپمنٹ سید امتیاز حسین شاہ ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ ہائے صحت، ابتدائی و ثانوی تعلیم ، اور زراعت کے منصوبوں کے لئے مجوزہ فنڈز الوکیشن اور دیگر امور پر غور و خوص کے ساتھ ساتھ ان محکموں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ایسے منصوبے شامل نہ کئے جائیں جو سالہا سال تک مکمل نہ ہوسکیں اور نئے مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کو حقیقت پسندانہ بنایا جائے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کے لئے ایسے منصوبے تجویز کئے جائیں جن سے زیادہ سے زیادہ آبادی مستفید ہوسکے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ضم اضلاع اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں سہولیات کی فراہمی کو پہلی ترجیح دی جائے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے لئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کرکے ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیگی ،صحت اور تعلیم ہماری حکومت کے ترجیحی شعبے ہیں اور ان دونوں شعبوں کو فنڈز کی فراہمی میں ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئی عمارتیں تعمیر کرنے کی بجائے پہلے سے موجود ہسپتالوں میں درکار سہولیات کی فراہمی پر توجہ دی جائے، دور افتادہ علاقوں کے ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شہری علاقوں کے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوسکے۔ وزیر اعلی نے ہدایت کی سرکاری ہسپتالوں میں خدمات کی مو ¿ثر مانیٹرنگ کے لئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے قیام کا منصوبہ شروع کیا جائے،سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کینسر کے مریضوں کے لئے گاما نائف ریڈیو سرجری سنٹر کے قیام جبکہ ہیموفیلیہ اور تھیلیسمیا کا شکار بچوں کے علاج کے لئے بھی منصوبے تجویز کئے جائیں اور ائیر ایمبولینس سروس کا منصوبہ نئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرکے اس پر جلد سے جلد عملدرآمد کیا جائے۔ وزیر اعلی نے محکمہ زراعت کے حکام کو ہدایت کی کہ زراعت کے شعبے میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے ریسرچ پر خصوصی توجہ دی جائے، زیتون اور زعفران جیسی منافع بخش پیداوار کی کاشت کو فروغ دینے کے لئے اقدامات تجویز کیے جائیں جبکہ بارانی علاقوں میں پانی کے دانشمندانہ استعمال کے لئے سمال چیک ڈیمز کی تعمیر پر کام کیا جائے۔ شعبہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بارے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سکول کے بچوں کو مفت کتابوں کے ساتھ ساتھ مفت بیگز دینے کا منصوبہ بھی شامل کیا جائے اور مفت درسی کتب کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ نئی عمارتیں تعمیر کرنے کی بجائے جہاں ضرورت پڑے وہاں کرائے کی عمارتوں میں نئے سکولز کھولے جائیں اورتمام اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور واش رومز کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ <><><><><>