News Details

03/11/2022

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم اضلاع میں پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور مطلوبہ تعداد اورمعیار کے مطابق پولیس نفری کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بھر تی کے عمل کو آسان بنانے کی ہدایت کی ہے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضم اضلاع میں پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور مطلوبہ تعداد اورمعیار کے مطابق پولیس نفری کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے بھر تی کے عمل کو آسان بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ضم اضلاع میں پولیس کی خالی آسامیوں پر مقامی اُمیدواروں کی بھرتی ممکن ہو سکے ۔انہوں نے صوبے کے تمام اضلاع میں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹرز کے قیام کی بھی منظوری دی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ باضابطہ انفراسٹرکچر قائم ہونے تک شارٹ ٹرم انتظامات کئے جائیں تاکہ محکمہ اپنی ذمہ داریاں احسن اندازمیںانجام دینے کے قابل ہو سکے ۔انہوں نے کاونٹر ٹیرارزم ڈیپاٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کی آسامی سمیت متعدد نئی آسامیوں کی تخلیق اور ٹریننگ سکول کے قیام کی تجاویز سے اُصولی اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے تک نئی آسامیوں کی تخلیق کے عمل کو حتمی شکل دی جائے۔ اجلاس میں سی ٹی ڈی کیلئے ٹیکنکل ماہرین کی بھرتی کی منظوری دی جبکہ سی ٹی ڈی کو ٹیکنکل ڈیٹا تک رسائی دینے کی ضرورت سے اتفاق کیاگیا اور یہ معاملہ بلاتاخیر متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ اُٹھانے کی ہدایت کی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی کے ملازمین کیلئے ایک بنیادی تنخواہ کے برابر سی ٹی الاﺅنس کی فراہمی کی تجویز سے اُصولی اتفاق کیا اور ہدایت کی کہ متعلقہ کمیٹی کے ذریعے معاملے کو حتمی شکل دی جائے ۔وہ بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں پراونشل ٹاسک فورس کے دسویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے داخلہ بابر سلیم سواتی ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل سردارحسن اظہر حیات، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ عسکری و سول حکام بھی اجلاس میںموجود تھے جبکہ متعلقہ ڈویژنل کمشنرز ، آر پی اوز، ڈی پی اوزاور ڈپٹی کمشنرز نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں ضم اضلاع میں محکمہ پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کے حوالےٍ سے متعدد اُمور اور تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ضم اضلاع کو ہارڈ ایریا ڈکلیئر کرنے کی تجویز سے بھی اُصولی اتفاق کیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں باضابطہ تجویز متعلقہ حکام کوپیش کی جائے ۔ مزید برآں اُنہوںنے ضم اضلاع میں پولیس کو سہولیات کی فراہمی خصوصاًاسلحہ، آلات اور گیجٹس کی خریداری اور انفراسٹرکچر کے قیام کیلئے درکار وسائل فراہم کرنے جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں کے پیکج کو سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی تنخواہوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی اُصولی منظوری دی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت پولیس کیلئے شہداءپیکج اور راشن پیکج میں اضافہ کا پہلے سے اعلان کرچکی ہے جس پر بلاتاخیر عمل درآمدیقینی بنایاجائے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں امن عامہ کا قیام صوبائی حکومت کی شروع دن سے ترجیح رہی ہے اور اس مقصد کیلئے پولیسنگ کے مجموعی عمل کوجدید پیشہ وارانہ خطوط پر فروغ دینے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ پولیس صوبے باالخصوص ضم اضلاع میں اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کرے، صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پرضروریات پوری کرے گی۔ اجلاس میں پولیس کے انتظامی اُمو ر کو مزید احسن انداز میں نمٹانے کیلئے پولیس ایکٹ 2017 کے تحت رولز آف بزنس میں مجوزہ ترمیم سے اُصولی اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضم اضلاع کے مختلف شعبوں میں کافی حد تک کام ہو چکا ہے اور کئی شعبوں میں مزید تیزرفتاری سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنہوںنے کہاکہ خیبرپختونخوا پولیس پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مالک ہے جس نے قیام امن کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں تاہم اُنہوںنے کہا کہ ضم اضلاع میں پولیسنگ کے عمل کو جدید خطوط پر فروغ دینا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس براہ راست عوام سے منسلک ہو تی ہے اسلئے اس کے رویے اور استعداد کار میں بہتری کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا عنصر بھی نہایت ناگزیر ہے اور اس مقصد کیلئے پولیس ایکٹ میں وضع کر دہ احتسابی عمل پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ امن قومی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے ،اگر معاشرے میں امن ہو گا تو ترقی اور خوشحالی کی راہ بھی ہموار ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے خیبرپختونخوا پولیس خصوصاً ضم اضلاع میں پولیسنگ کے عمل کو بہتر بنانے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ صوبائی حکومت نے پہلے بھی اپنی استعداد سے بڑھ کر اقدامات کئے ہیں اور آئندہ بھی درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی تاہم محکمہ پولیس کو وسائل کابروقت اور کار آمد استعمال یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اہداف حاصل کئے جا سکیں۔