News Details

24/09/2022

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بھر پور کریک ڈاون کی ہدایت کی ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بھر پور کریک ڈاون کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ سماج دُشمن عناصر اپنے ذاتی مفادات کیلئے نوجوان نسل کو نشے کی لت میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں جس کی فوری اور دیر پا بنیادوں پر بیخ کنی ناگزیر ہے۔ اس مقصد کیلئے محکمہ ایکسائز ، پولیس ، انٹی نارکوٹکس فورس اور سول انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں کو مربوط اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ گزشتہ روز اس سلسلے میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پرفارمنس کے چکر میںبغیر کسی ٹھوس وجہ کے عام شہریوں کو تنگ کرنے کی بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر منشیات فروشوں ، ڈیلروں اور سمگلرز کے خلاف نتیجہ خیز کاروائی کی جائے ، وزیراعلیٰ نے کہاکہ منشیات کے استعمال کابڑھتا ہوا رجحان نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اسلئے معاشرے کو اس لعنت سے مکمل طور پر پاک کرنے کیلئے بڑے بڑے مگر مچھوں اور سرغنہ گروپس ، ڈیلرز اور منشیات فروشوں کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے ،یہی ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے منشیات کا کاروبارکرنے والوں کے خلاف قوانین میں موجود سزاو ¿ں کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس سلسلے میں قانونی سفارشات اگلے کابینہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت کی گنجائش نہیں۔ تمام محکموں کو اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری کے ساتھ پوری کرنا ہو گی۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ اُن کے دفتر میں پہنچنی چاہیئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے ہر صورت منشیات فروشوں اور اس کے ڈیلرز کے نیٹ ورک کو توڑنا ہے ، اس مقصد کیلئے نارکوٹکس کنٹرول ونگ کو کارکردگی دکھانا ہو گی۔ ایک ماہ کے بعد دوبارہ صورتحال کا جائزہ لیں گے جس میں واضح پیشرفت یقینی ہونی چاہیئے۔ محمود خان نے کہاکہ معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کیلئے ہم سب ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ اسلئے اس معاملہ میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش موجود نہیں۔ صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ا ±نہوںنے ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنے اضلاع میں منشیات کے خلاف کاروائی کی مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ نے نارکوٹکس ایریڈیکشن ٹیم کو دوبارہ سے فعال بنانے کی بھی ہدایت کی۔ قبل ازیں اجلاس کو منشیات کے خلاف کی گئی کاروائیوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں منشیات میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی جاری ہے۔ محکمہ ایکسائز کی طرف سے گزشتہ چار سالوں کے دوران منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے دوران987 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جس کے نتیجے میں 7470 کلوگرام چرس ، 834 کلوگرام ہیروئن ، 526 کلوگرام افیوم ، 245 کلوگرام آئس اور 25249 لٹر الکوحل برآمد کی گئی ،علاوہ ازیں محکمہ پولیس کی طرف سے بھی گزشتہ ایک سال کے دوران 1500 سے زائد کیسز درج کئے گئے اور تقریباً1500 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح کمشنر پشاور ، محکمہ پولیس اورمحکمہ سماجی بہبود کی طرف سے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے حالیہ مشترکہ مہم کے دوران 1300 افراد کی بحالی کا عمل مکمل کرکے اُن کے خاندانوں کے حوالے کر دیا گیاجبکہ مزید افراد کی بحالی کا عمل جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے سلسلے میں مذکورہ اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ اس مہم کو دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک بھی توسیع دی جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ ایک اچھا اور انسان دوست اقدام ہے تاہم اس کاوش کو حقیقی معنوں میں دیر پا اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کی بیخ کنی لازمی ہے۔انسپکٹرجنرل پولیس معظم جاہ انصاری ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سید اقبال حیدر، سی سی پی او پشاور اعجاز خان، کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔