News Details

28/12/2021

خیبرپختونخوا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی نے 360 کلومیٹر طویل پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے اور تقریباً30 کلومیٹر طویل دیر موٹروے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے

خیبرپختونخوا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی نے 360 کلومیٹر طویل پشاور تا ڈی آئی خان موٹروے اور تقریباً30 کلومیٹر طویل دیر موٹروے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔ یہ منظوری منگل کے روز وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی ہے ۔ صوبائی کابینہ اراکین فضل شکور خان اور ریاض خان کے علاوہ چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری خزانہ اکرام اﷲ خان، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اعجاز انصاری، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شمائل بٹ، ایم ڈی پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کے شرکاءکو پشاور ۔ ڈی آئی خان موٹروے اور دیر موٹروے کی تکنیکی اور مالی فزبیلٹی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ دونوں منصوبے تکنیکی اور مالی لحاظ سے قابل عمل ہیں۔360 کلومیٹر طویل پشاور۔ ڈی آئی خان موٹروے چھ لین پر مشتمل ہو گی جس پر 19 انٹرچینجز تعمیر کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ اس موٹروے پر تقریبا ً7 کلومیٹر طویل دو ٹنلز بھی بنائی جائیں گی اور جہاں پر ضرورت ہو 30 کلومیٹر سروس روڈ بھی تعمیر کی جائے گی ۔ مذکورہ منصوبہ261.6 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے ساڑھے تین سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔دیر موٹروے کے حوالے سے بتایا گیا کہ 30 کلومیٹر طویل دیر موٹروے چکدرہ تا رباط تعمیر کی جائے گی جس پر 33.5 ارب روپے لاگت آئے گی ۔ مذکورہ موٹروے پرتین انٹر چینجز ، چار اوور پاس ، چار فلائی اوورز ،24 پل، دو انڈر پاسسز بھی تعمیر کئے جائیں گے ۔چار لینز پر مشتمل اس مووٹروے پر دو ٹنلز بھی تعمیر کی جائیں گی ۔ دیر موٹروے کی تعمیر سے 27 کلومیٹر کی مسافت کم ہو گی اور وقت کی بھی بچت ہو گی ۔ اجلاس کے شرکاءکو بتایا گیا کہ صوبے کے یہ دونوں میگا منصوبے پہلے ہی سے ایگزیکٹیو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل سے منظور ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ شاہراہوں کے یہ منصوبے صوبے کی پائیدار بنیادوں پر ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے ہیں اوریہ منصوبے عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے علاوہ صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے میں سنگ میل ثابت ہو ں گے ۔ اُنہوںنے کہاکہ ان شاہراہوں کی تعمیر سے صوبے میں سیاحتی ، تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا جس سے صوبہ ترقی کی راہ پرگامزن ہو گا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے درکار زمینوں کی خریدار ی کا عمل شروع کیا جائے اور ان منصوبوں پر ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے ۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان منصوبوں پر عمل درآ مد کے سلسلے میں صوبائی حکومت کے مروجہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے ۔