News Details

14/09/2021

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور کے حوالے سے اجلاس

محکمہ انرجی اینڈ پاور خیبرپختونخوا کے تحت صوبے میں 161 میگاواٹ کے 8 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر مکمل کی گئی ہے ، جن سے صوبائی حکومت کو سالانہ 3.98 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے،اسی طرح سولر پراجیکٹ کے تحت 3.12 میگاواٹ کے پانچ منصوبے مکمل کئے گئے ہیںجن سے صوبائی حکومت کو سالانہ 86 ملین روپے کی بچت ہورہی ہے۔علاوہ ازیں 232 میگاواٹ کے سات پن بجلی گھروں اور 43 میگاواٹ کے سات سولر پراجیکٹس کی تعمیر پر بھی کام جاری ہے جن سے بالترتیب سالانہ 9 ارب روپے کی آمدن اور 865 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔ یہ بات منگل کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ انرجی اینڈ پاور کے حوالے سے اجلاس کے دوران بتائی گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے توانائی تاج محمدترند، سیکرٹری انرجی اینڈ پاومحمد زبیر ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو محمد نعیم اوردیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو محکمہ توانائی کی مجموعی کارکردگی اور اہم کامیابیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں پیڈو کے تحت 8 ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے ،جن میں 81 میگاواٹ ملاکنڈ تھری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ درگئی ، 18 میگاواٹ پیہور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ صوابی ، 1.8 میگاواٹ شیشی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال، 4.2 میگاواٹ ریشون ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال، 2.6 میگا واٹ مچئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مردان، 36.6 میگاواٹ درال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سوات، 17 میگاواٹ رانولیا اورمختلف استعداد کے حامل نہروں پر 10 منی مائیکرو پراجیکٹس کی تعمیر شامل ہے ۔ اسی طرح صوبے کے مختلف اضلاع میں سات ہائیڈرو پاور پراجیکٹس زیر تعمیر ہیں، جن میں 10.2 میگاواٹ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ، 11.8 میگاواٹ کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شانگلہ، 40.8 میگاواٹ کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دیر لوئر، 84 میگاواٹ مٹلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سوات، 69 میگاواٹ لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال، 10.5 میگاواٹ چپڑی چا ر خیل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کرم اور 6.5 میگاواٹ براندو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تور غر شامل ہیں۔ یہ سات منصوبے 73 ارب روپے کی مجموعی تخمینہ لاگت سے مکمل کئے جائیں گے۔اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ 300 میگاواٹ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیںجبکہ 157 میگاواٹ مدین اور 88 میگاواٹ گبرال کالام ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر کے لئے عالمی بینک کے ساتھ معاہدہ کیاگیا ہے۔علاوہ ازیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 188 میگاواٹ ناران اور 96 میگاواٹ بٹہ کنڈی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام جاری ہے ۔ 496 میگاواٹ سپاٹ گاہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی فیزیبلٹی پر کام جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اگلے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے لئے 564 میگاواٹ کے تین منصوبوں کے پی سی ونز تیار کیے گئے ہیں۔صوبے میں منی مائیکرو ہائیڈل پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے تحت 356 چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعمیر پر کام جاری ہے جن میں سے اب تک 266 بجلی گھروں کو مکمل کرکے فعال کیا گیا ہے۔پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت مزید 672 چھوٹے پن بجلی گھر تعمیر کئے جائیں گے۔سولرائزیشن کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے میں اب تک 2323 مساجد کی سولرائزیشن مکمل کی گئی ہے۔ مساجد کی سولرائزیشن منصوبے کے تحت کل 4 ہزار مساجد کو شمسی توانائی فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح سرکاری سکولوں کو شمسی توانائی کی فراہمی کے منصوبے کے تحت 8ہزار اسکولوں کو سولرائز کیا جارہا ہے جن میں سے اب تک ساڑھے تین ہزار سکولوں کو سولرائز کیا گیا ہے۔مزید برآں بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں 13 منی سولر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لئے کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا گیا ہے۔ صوبے کی اپنی ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس کے لئے نیپراکی طرف سے لائسنس بھی جاری کردیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پیڈو کے تحت بجلی کے منصوبوں کی فنڈنگ کے لئے 10 سالہ بزنس پلان منظور ہوگیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کے خصوصی احکامات کی روشنی میں محکمے میں ای بڈنگ سسٹم کا اجراءکیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو اب تک مکمل شدہ منی مائیکرو ہائیڈل پاور اسٹیشنز کو چلانے کے لئے قابل عمل آپریشنل پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ان ہائیڈل پاور اسٹیشنز کے بہتر انتظام و انصرام کے لئے کمیونٹی کی شراکت کو یقینی بنانے اور منی مائیکرو ہائیڈل پاور پراجیکٹ اور سولرائزیشن پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے پر جلد کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تیاریوں کو جلد حتمی شکل دی جائے اور ضم اضلاع میں سولر گرڈ اسٹیشن پر جلد عملی کام کا آغاز کیا جائے۔ محمود خان نے پیڈو کے تحت پن بجلی کے جاری تمام منصوبوں پر ٹائم لائینز کے مطابق پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔