News Details

20/12/2018

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ محکموں کو صوبائی حکومت کے نافذکردہ قوانین کے تحت تیار شدہ رولز صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ محکموں کو صوبائی حکومت کے نافذکردہ قوانین کے تحت تیار شدہ رولز صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے صوبے میں شامل سابق فاٹا کے نئے اضلاع اور ملاکنڈ میں قانونی خلاء پر کرنے کیلئے تیز رفتار قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں اس سلسلے میں ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی اور متعلقہ محکموں) قانون،خزانہ،داخلہ )کے ساتھ مشترکہ اجلاس کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ باہمی مشاورت سے قابل عمل قوانین بنائے جاسکیں۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی حکومت کے قوانین کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان ، سیکرٹری قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سابقہ صوبائی حکومت کے پانچ سالہ دور میں مجموعی طور پر 171 قوانین نافذ کئے گئے۔ جبکہ 76 مختلف قوانین کے تحت رولز تشکیل دیے گئے جن کی جانچ پرکھ مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ سابق اسمبلی تحلیل ہونے کی وجہ سے سابقہ صوبائی حکومت کے 31 قوانین کی منظوری نہیں لی جاسکی۔ موجودہ صوبائی حکومت کے دوران خیبرپختونخوا فنانس ترمیمی ایکٹ 2018 اور ایک آرڈیننس خیبرپختونخوا یوتھ افیئرز مینجمنٹ نافذ ہوچکے ہیں ، 7 قوانین اسمبلی میں موجود ہیں،محکمہ قانون کی طرف سے موجودہ حکومت کے مختلف محکموں کے 24 بلز کی جانچ پرکھ کی جاچکی ہے، اسی طرح مختلف محکموں کئے 8 آرڈیننس ، 14 نوٹیفکیشن، 6 رولز ، 7 ڈرافٹ سروس رولز اور 6 ڈرافٹ ایگریمنٹس کی بھی جانچ پرکھ (vetting) کی جاچکی ہے۔ وزیراعلیٰ کی خصوصی دلچسپی پر بتایا گیا کہ سینئر سیٹزن قانون کے تحت رولز اور آئیس کے حوالے سے قانون کی بھی جانچ پرکھ کی جاچکی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مذکورہ قانون اور رولز سمیت دیگر تمام قوانین پر عمل در آمد کے سلسلے میں تیز رفتار پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی انہوں نے مختلف قوانین کے تحت تیارشدہ رولز منظوری کیلئے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے جبکہ جن قوانین کے رولز نہیں ہیں ان کے رولز بروقت تشکیل دینے کی بھی ہد ایت کی انہوں نے خصوصی طور پر وسل بلو ر قانون کے تحت ادارہ بنانے کی ہدایت کی تاکہ صوبائی حکومت کے اس اہم قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے انہوں نے واضح کیا کہ قوانین کے تحت رولز کی تشکیل اور قوانین پر عمل درآمد متعلقہ محکمے کی ذمہ داری ہے۔ تمام محکمے اپنے قوانین کے رولز بروقت منظوری کیلئے کابینہ کے سامنے پیش کریں اور ان پر عمل درآمد یقینی کیلئے ابھی سے حکمت عملی وضع کر لیں۔اجلاس میں سابقہ صوبائی حکومت کی طرف سے مساجدکے خطباء کواعزازیہ کی فراہمی کے فیصلے پر عمل درآمد کا معاملہ بھی زیر غور آیا،وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں قابل عمل طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔