News Details

20/05/2018

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو ہدایت کی ہے وہ حویلیاں دم توڑ پل پر کام کی رفتار تیز کرے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو ہدایت کی ہے وہ حویلیاں دم توڑ پل پر کام کی رفتار تیز کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں اسے دو رویہ کرنے کیلئے پہاڑی علاقوں کے اندر مناسب وسعت اور پختگی برقرار رکھیں۔وہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے براستہ کمراٹ دیر روڈ، ایبٹ آباد ،بائی پاس روڈ ،حویلیاں ، دم توڑ ،ایوب پل ہزارہ اور کالام میں انفراسٹرکچرل ترقیاتی پراجیکٹس سے متعلق ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو صوبے میں سڑکوں کے مختلف منصوبوں ، رابطہ سڑکوں اور موٹر وے ایبٹ آباد بائی پاسکے بارے میں بتایا گیا جبکہ ایف ڈبلیو او کے شروع کردہ صوبائی حکومت کے پراجیکٹس اور فنڈز سے موثر اور بروقت استفادہ کرنے سے متعلق امور کے بارے میں بھی انہیں آگاہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کو ہدایت کی کہ وہ مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر کام کی رفتار مزید تیز کرتے ہوئے صوبے کے مستقبل کیلئے مختلف علاقوں کو سیاحتی خطوط پرکھولنے اور سڑکوں کو توسیع دینے کے اقدامات کریں جس پر ایف ڈبلیو او نے اجلاس کو یقین دلایا کہ وہ پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق مزید اقدامات کریں گے۔اور ایبٹ آباد و دیگر علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع پر کام مزید تیز کر دیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ مذکورہ سڑکوں کی جلد تکمیل سے ایبٹ آباد کو جانے والی مرکزی سڑک پررش کم ہو جائے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان پراجیکٹس کی تکمیل سے سیاحتی خطوط پر ان علاقوں میں سیاحت کی ترقی اور روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہو گا جن سے صوبائی خزانہ میں باقاعدگی سے مالیاتی شراکت میں بھی بڑھوتری آئے گی جبکہ یہ منصوبے ان علاقوں میں مقامی طور پر اقتصادی سرگرمیوں میں توسیع کا باعث بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کے ساتھ قبل ازیں کئے گئے معاہدے کے مطابق اس منصوبے پر 1200ملین روپے لاگت آئے گی جس سے سیاحوں کیلئے مختلف سیاحتی مقامات کھلیں گے بلکہ تین لاکھ مقامی آبادی بھی ان سے مستفید ہو گی۔وزیر اعلیٰ نے کالام کو کمراٹ کے راستے دیر سے ملانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان بہترین سیاحتی مقامات کو سیاحتی خطوط پر ترقی دی جا رہی ہے اور مستقبل میں سیاحت کو صوبائی اقتصادی سرگرمیوں کے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبے نہ صرف ان علاقوں کو سیاحت کیلئے کھول دیں گے اور کافی حد تک فاصلوں کو کم کریں گے بلکہ ان سے مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علاقے ترقی اور خوشحالی کی منزل کی جانب بھی گامزن ہو جائیں گے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان منصوبوں سے صوبے کے ابھی تک دریافت نہ ہونے والے علاقوں کے لوگ بھی مجموعی طور پر ترقی اور خوشحالی کی منزل سے ہمکنار ہوں گے۔