News Details

05/11/2019

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے شہریوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے اور وہاں پر سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز کے قیام کیلئے ضلعی انتظامیہ کو درکار اراضی کی جلد سے جلد نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اُنہوںنے واضح کیا ہے کہ سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کی توسیع اگلے سال صوبے کے دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز تک ممکن بنائی جائے گی ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے شہریوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے اور وہاں پر سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز کے قیام کیلئے ضلعی انتظامیہ کو درکار اراضی کی جلد سے جلد نشاندہی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اُنہوںنے واضح کیا ہے کہ سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کی توسیع اگلے سال صوبے کے دیگر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز تک ممکن بنائی جائے گی ۔ اُنہوںنے کہاہے کہ قبائلی اضلاع کے عوام کی ترقی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔وہ وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس میں وزیراعلیٰ کے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کامران بنگش ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ شہاب علی شاہ، سیکرٹری ریلیف اینڈ رہبلیٹیشن عابد مجید ، ایس ایس یو ہیڈ صاحبزادہ سعیدو دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کو قبائلی اضلاع میں موجودہ سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز میں مختلف بنیادی خدمات کی فراہمی اور مزید نئے سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ قبائلی اضلاع میں پہلے سے موجود سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز میں نادرا کی طرف سے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جن میں قومی شناختی کارڈ کا اجراء، سمندر پار پاکستانیوں کیلئے قومی شناختی کارڈ کا اجراء، چائلڈ رجسٹریشن سر ٹیفکیٹ ،فیملی رجسٹریشن سر ٹیفکیٹ ، ای ٹی او اسلام آباد، نیشنل بینک کے اے ٹی ایم کارڈز، عارضی طور پر قبائلی اضلاع کے بے گھر افراد کیلئے گرانٹس اور ای سہولت جس میں یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی ، سیلولر ٹاپ اپ اور نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیمز شامل ہیں۔ اسی طرح سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز میں نادرا کی طرف سے پاسپورٹ کاونٹرز ، بی آئی ایس پی کاﺅنٹرز ، سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم کاﺅنٹرز، برتھ سرٹیفکیٹس ، ڈیتھ سرٹیفکیٹس ، میرج سرٹیفکیٹ وغیر ہ فراہم کرنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے ۔ اجلا س کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں 15 سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز پہلے سے فعال ہیں جبکہ 12 مزید سنٹرز کے قیام پر پیشرفت جاری ہے۔ ان 12 نئے سی ایف سیز کے قیام سے قبائلی اضلاع میں سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز کی کل تعداد 27 ہو جائے گی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز میں مزید خدمات فراہم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی ہے ۔ان خدمات میں ڈومیسائل ، برتھ ، ڈیتھ، میرج سرٹیفکیٹس کے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں کے سرٹیفکیٹس کی فراہمی ، اراضی کی منتقلی ، جائیداد سے متعلق دستاویزات کی فراہمی ، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور رینول، اسلحہ لائسنس ، ڈرائیونگ لائسنس ، خیبربینک کے اے ٹی ایم کارڈز ، ٹریفک چالان اور روٹ پر مٹس شامل ہیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ قبائلی ضلع خیبر میں اس وقت چار ، شمالی وزیرستان میں چار، جنوبی وزیرستان میں تین جبکہ ضلع کرم اور اورکزئی میں دو ،دو سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز مکمل فعال ہیں ۔ منصوبہ بندی کے تحت ضلع باجوڑ میں چار ، ضلع مہمند میں تین جبکہ باقی تمام قبائلی اضلاع میں ایک ، ایک سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرز مزیدقائم کئے جائیں گے جن کی تکمیل اگلے سال متوقع ہے ۔ اجلاس کو قبائلی اضلاع کے عارضی طور پر بے گھر افراد کیلئے مالی امداد کے حوالے سے بھی بتایا گیا ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ایمرجنسی ریلیف پراجیکٹ کے تحت اب تک 5.63 بلین روپے قبائلی اضلاع کے مستحقین میں تقسیم کئے جا چکے ہیں، جس سے 3,64,229 مستحق افراد مستفید ہوئے ہیں جبکہ چائلڈ ولنس گرانٹ کے تحت 1.96 بلین روپے قبائلی اضلا ع کے مستحق افراد کو فراہم کئے گئے ہیں چائلڈ ولنس گرانٹ سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 4,35,495 ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی امداد صرف اور صرف مستحقین کو فراہم کی جا چکی ہے ، جس کیلئے اہلیت اور انرولمنٹ کا عمل نادرا سٹیزن ڈیٹا بیس کے ذریعے کی گئی ہے جبکہ فنڈز کی شفاف اور محفوظ ترین تقسیم کیلئے بائیو میٹرک ویریفکیشن کے عمل کو بروئے کار لایا گیا ہے ۔ محمود خان نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو بنیادی خدمات اور فوری ریلیف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے سٹیزن فسلیٹیشن سنٹرزکی ترقی اور استعداد میں اضافہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اُنہوںنے قبائلی اضلاع کے عوام کو معیار ی خدمات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے جبکہ مزید سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز کے قیام کو جلد سے جلد ممکن بنایا جائے گا۔