News Details

06/02/2018

صوبے میں پہلی بار مندروں کے پنڈت، گرجا گھروں کے پادری اور گوردواروں کے گرنتھی صاحبان کو بھی مساجد کے آئمہ کرام کی طرز پر ماہانہ وظیفہ دیا جائے

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے انکشاف کیا کہ صوبے میں تمام مذہبی پیشواؤں کی کفالت کیلئے حکومتی سطح پر انتظام کرنے کافیصلہ کیا ہیجس سے صوبے میں پہلی بار مندروں کے پنڈت، گرجا گھروں کے پادری اور گوردواروں کے گرنتھی صاحبان کو بھی مساجد کے آئمہ کرام کی طرز پر ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔تحریک انصاف کی حکومت نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے ۔واضح رہے کہ مساجد کے آئمہ کرام کو ماہانہ وظیفے کی ادائیگی کی منظوری صوبائی حکومت پہلے ہی دی چکی ہے۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت اپنے منشور کے مطابق انصاف کو عام کرنے کیلئے اپنے اخلاص اور نیک نیتی کامظاہر ہ کررہی ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہمارے منشور کا حصہ ہے اوریہی وجہ ہے کہ صوبہ بھر کی اقلیتوں کوموجودہ دورہ حکومت میں ان کاحقیقی مقام دلانے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ ماضی کی حکومتوں نے اقلیتوں کو صرف دو کروڑ روپے کا فنڈ دیا جس کو پی ٹی آئی حکومت نے بڑھا کراٹھار ہ کروڑ ستر لاکھ روپے تک پہنچادیا ہے جس میں مزید اضافہ کیا جائے گا آئندہ تحریک انصاف کی حکومت برسراقتدار آئی گی تواس فنڈ کو ایک ارب روپے تک پہنچائیں گے۔ وہ خیبرپختونخوا کی ہندو اقلیتی برادری کی جانب سے منعقدہ دیوالی، لو ہڑی، شیوراتری کے تہواروں کے جشن کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔اس تقریب کاانعقاد صوبائی وزارت مذہبی و اقلیتی امورحج واوقاف کے تعاون سے کیاگیا۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری اوقاف ہدایت جان، وزیر اعلیٰ کے کوارڈینٹر برائے اقلیتی امور روی کمار، سنٹرل ایگزیکٹو کونسل نریش کمار ، بھائی کمیونٹی سے مالا اختری، اقلیتی برادری کے کونسل شوکت مسیح، تحصیل کونسلر اوم پرکاش، صوبہ بھر کے پنڈتوں ، ہندو برادری، سکھ برادری اور مسیحی برداری اور بھائی کمیٹی کے سینکڑوں افراد مرد وخواتین نے شرکت کی ۔اس موقع پر روی کمار نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اقلیتوں کاحق تسلیم کیاگیا اور اس کاسارا کریڈیٹ پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو جاتا ہے جنھوں نے صوبے کی تمام اقلیتوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکیا۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے اقلیتوں کے تہواروں کے لیے پہلی مرتبہ ستر لاکھ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا۔ جس کی پہلی تقریب کا انعقاد پچھلے ہفتے نوشہرہ چرچ میں کرسمس تقریبات سے کیا گیا۔ آج دوسری تقریب منعقد کی جارہی ہے اوران دونوں تقاریب میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک خود شریک ہوئے جو ہماری اقلیتی برادری کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے انھوں نے کہا کہ عباد ت گاہوں کی تعمیر و مرمت کے لیے چھ کروڑ روپے ،اقلیتوں کے فلاح و بہبود کے لیے دو کروڑ روپے اور اسی طرح صوبے میں اقلیتی برادری کے قبرستانوں اور شمشان گھاٹ کے لیے دس کروڑ روپے جاری کیے گئے۔تقریب کے مہمان خصوصی وزیر اعلی پرویز خٹک نے اقلیتی برادری کاشکریہ ادا کیا اوران کو ان کے تہواروں کی مبارک با دی اور کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اقلیتی برادری کے ساتھ ہے اوران کے ہر دکھ درد میں برابرکی شریک ہے کیونکہ اقلیتی برادری حقیقی معنوں میں محب وطن پاکستانی ہیں۔ ان کی جتنی بھی خدمت کی جائے کم ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقلیتوں کے تمام جائز مطالبات تسلیم کیے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ جو سپاسنامہ پیش کیاگیا۔ اقلیتوں کوتمام ملازمتوں میں ان کا کوٹہ دیا گیا ہے۔ اور جن جن محکموں میں سینٹری ورکرز کو دوسروں اضلاع تبدیل کیاگیا ایک ہفتے کے اندر اندر ان کو اپنے اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔ جیلوں میں ٹرانسفر کئے جانے والے سینٹری ورکرز کو دوبارہ ان کی جگہوں پر تعینا ت کیا جائے گا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ فنڈ کی کوئی کمی نہیں اور اپنے دور حکومت میں اقلیتوں کے علاج معالجے وظائف سمیت تمام امور کے لیے فنڈ ز فراہم کیے جائیں گے انھوں نے روی کمار کو ہدایت کی کہ وہ فوری طورپر صوبہ بھر میں مندروں، گرجا گھروں اور گوردوارووں کی فہرستیں تیار کریں اورا یک ہفتے کے اندر اندر ان تمام پنڈت ، پادری، گرنتھی صاحبان کی فہرستیں ان تک پہنچائیں ۔ پرویز خٹک نے اس موقع پر تاریخی اعلان کرتے ہوئے اقلیتوں کے لیے بھی مساجد کے پیش اماموں کے برابر وظائف کا اعلان کیا۔ وزیر اعلی نے ڈی سی نوشہرہ اور ڈی ای او نوشہرہ فیاض حسین کو ہدایت کی کہ رسالپور میں ہندو برداری کے مندر میں قائم سکول کو فوری طور پر دوسری جگہ منتقل کرنے اور مندر کو خالی کرنے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے تعلیم، صحت ،پولیس اورپٹوار میں ریکارڈ اصلاحات کیں۔ جس کے ثمرات عوام سمیت اقلیتی برادری تک پہنچ رہے ہیں کیونکہ انہیں سکولوں میں اقلیتی برادری کے بچے بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہسپتالوں میں بھی اقلیتی برادری کا علاج معالجہ ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے نہ صرف عوام بلکہ اقلیتی برادری کے حقوق کی بھی حق تلفی کی اور ان کو صرف اپنی تجوریاں اور جیبیں بھرنے سے کام تھا۔ ان کوعوام اور اقلیتوں سے کوئی سرو کار نہیں تھا۔ مگر جب سے صوبے میں تحریک انصا ف کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے عوام کی عزت نفس بحال ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ جب تک کشمیر ی عوام کو آزاد ی نصیب نہیں ہوتی۔ اس وقت تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی بھارت کشمیری عوام کواُن کا حق نہیں دے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوکر صوبہ میں عوام اور اقلیتی برداری پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہورہی ہے اورانشاء اللہ عوامی سونامی سے 2018 کے انتخابات میں چاروں صوبو ں سمیت وفاق میں حکومت تحریک انصاف کی ہوگی اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔