News Details

11/12/2017

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جس ملک کی قیادت آصف علی زرداری اور نوازشریف جیسے کرپٹ عناصر کے پاس ہو تواس قوم کا اللہ ہی حافظ ہو۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جس ملک کی قیادت آصف علی زرداری اور نوازشریف جیسے کرپٹ عناصر کے پاس ہو تواس قوم کا اللہ ہی حافظ ہو۔یہ طے ہے کہ کرپشن اور پاکستان مزید ایک ساتھ آگے نہیں چل سکتے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کررکھا ہے۔ عوام نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک میں نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں۔اس ملک کو اب ایماندارقیادت کی ضرورت ہے جو عمران خان ہی ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اُس کو کرپشن سے اثاثے بنانے ، محلات اور کارخانے لگانے اور جھوٹ بولنے پر نوازشریف کو نا اہل قرار دیا گیا ۔زرداری اور اسفندیار نے اپنی باریوں میں پورے سسٹم کو مفلوج کرکے قومی خزانے پر مسلسل ڈاکے ڈالے اسلئے قوم ایک بار پھر نظام کی تبدیلی کرپٹ عناصر کے خاتمے کے لیے 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کووفاق سمیت چاروں صوبوں میں کامیاب کرائے گی۔وزیراعلیٰ کا اکوڑہ خٹک پہنچے پر شاندار اور والہانہ استقبال کیاگیا۔ کارکنوں میں زبردست جوش وخروش دیکھنے کو ملا۔ وزیر اعلیٰ پر گل پاشی کی گئی اورجلوس کی شکل میں وزیر اعلیٰ کو جلسہ گاہ پہنچایا گیا۔ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے اکوڑہ خٹک ایک بڑے شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ضلعی سینئر صدر اور پی پی پی PK15 کے سابق امیدوار میاں اکمل شاہ ایڈوکیٹ حلقہ پی کے 15 کے سابق صدر عبدالرحمن ایڈوکیٹ، سابق نائب ناظم سید علی خٹک نے پی پی پی کے دیگر عہدیداروں اور سینکڑوں کارکنان سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔صوبائی وزیر میاں جمشید الدین کاکا خیل،ضلع ناظم لیاقت خٹک، ایم این اے عمران خٹک ،ایم پی اے ادریس خٹک ،میاں اکمل شاہ کاکاخیل ، تحصیل ناظم نوشہرہ احد خٹک، تحصیل نائب ناظم حمید اللہ خٹک ،تحصیل ممبر ریاض علی شاہ، تحصیل ممبر محمد افضل شاہ، نواب اکبر ذاکر اور دیگر نے خطاب کیا۔ ۔وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہو ئے میاں اکمل شاہ اویڈکیٹ اور ان کے ساتھیوں کا خیر مقدم کیا اور کہاکہ جس پارٹی کا سربراہ زرداری ہو اُس میں موجود رہنا وقت کے ضیا ع کے سوا کچھ نہیں اسلئے میاں اکمل شاہ اور دیگر عہدیداروں کا پی ٹی ائی شامل ہونا درست فیصلہ ہے۔عوام نے کرپٹ اور ناکارہ نظام سے جان چھڑانے کیلئے تحریک انصاف کو تبدیلی کیلئے ووٹ دیا۔ ملک بھر میں نظام کی تبدیلی کی رواں لہر کے پس پردہ کچھ تلخ حقائق ہیں جن کے ذمہ دار کرپٹ اور خود غرض حکمران ہیں۔ پاکستان ایک مخصوص طبقے اشرفیہ کیلئے نہیں بنا تھابلکہ اس ملک میں 20 کروڑ عوام ہیں جو اس کے وسائل پر حق رکھتے ہیں۔ غریب آدمی کو گزشتہ کئی دہائیوں سے یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے، مفاد پرست حکمرانوں نے ذاتی مفادات کی خاطر عوامی خدمات کے شعبوں کو سیاسی مداخلت سے تباہ کیا ۔تعجب کی بات ہے کہ گزشتہ چھ ، سات دہائیوں سے کسی نے بھی نہ سو چا ، نہ پوچھا کہ عام آدمی کو اس سسٹم سے باہر کیوں رکھا گیا مگر جب عوام کے ٹیکسوں پر محلات اور کارخانے بنانے والوں کی کرپشن ، چوری اور لوٹ مار پکڑی گئی تو دیوانہ وار یہ گردان الاپتے پھرتے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالا گیا۔کیا وہ عوام کو بتا سکتے ہیں کہ اُنہوں نے دُنیا بھر میں کارخانے کہاں سے بنائے۔اُن کے پاس شرمندگی کے سواء کوئی جواب دینے کی سکت نہیں ہے۔وقت آگیا ہے کہ جس نے بھی اس ملک کو لوٹا اُس کو کڑی سزا ملنی چاہیئے اس کے بغیر مسائل کی دلدل سے نکلنا ناممکن ہے۔تحریک انصاف نے قوم کو مفاد پرست سیاستدانوں کی غلامی سے نجات دلانے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے نیشنلیان یا کوئی ووسرا غلط فہمی میں نہ رہے تحریک انصاف دوبارہ دوگنا قوت کے ساتھ اقتدار میں آئے گی انہوں نے کہاکہ نواز شریف نے قومی خزانہ لوٹا ، عوام کے ٹیکسوں سے کارخانے اور محلات بنائے ، کرپشن کا کلچر مضبوط کیا لیکن جب اُس کی چوری پکڑی گئی تو وہ بدحواس ہو کر اداروں کی تذلیل پر اُترآیا ہے۔نواز شریف کی جو غیر قانونی جائیداد دریافت ہوئی ہے اُن کی غیر دریافت شدہ جائیداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور پوری دُنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔یہی کچھ زرداری نے بھی کیا۔ عجیب ہے کہ ان دونوں کو اپنی کرپشن ، بدعنوانیوں اور سسٹم کو آلودہ کرنے پر کوئی ندامت نہیں بلکہ اس کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔سابقہ حکمرانوں نے ملک کو بیرونی اور اندرونی قرضوں کے دلدل میں ڈال دیا ہے۔غریب سے اُس کا مستقبل چھین لیا ہے لیکن ہم نے غریب کو بہتر مستقبل کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔خیبرپختونخو​ا سے اچھی حکمرانی اور بہتر نظام کا نفاذ ملک میں بہتر اورشفاف حکمرانی ، میرٹ کی بالادستی ، انصاف کی فراہمی اور ترقی کی بنیاد ثابت ہو گی۔ نظام کی تبدیلی کے لئے صوبائی حکومت کی کامیاب کاؤشوں سے متاثر ہو کر لوگ دیگر سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں تحریک انصاف روایتی سیاسی جماعت نہیں اور نہ ہی ہمارے دعوے روایتی ہیں۔ہم نے تبدیلی کا نعرہ لگایا اور عمل کرکے دکھایا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوام روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہیں۔حکمران عوامی ٹیکسوں سے جمع ہونے والے پیسے کو اپنی عیاشیوں پر لٹاتے رہے اور ملک کو قرضے لیکر چلانے کی ناکام کوشش کرتے رہے جس کے نتیجے میں آج پاکستان کھربوں کا مقروض ہے۔روازنہ کی بنیاد پر قرضے لئے جارہے ہیں اور دھڑا دھڑا نوٹوں کی چھپائی شروع ہے کوئی حساب کتاب ہی نہیں ہے ۔دُنیا جس رفتار سے آگے کی طرف جارہی ہے ہم اُس کی دوگنا رفتار سے پیچھے کی طرف جارہے ہیں جو ہمارے لئے بحیثیت قوم بڑا المیہ ہے اور اس تباہی کی وجہ سے سیاسی لوگ عوام کے مجرم ہیں ۔ہمارے تمام مسائل کی بنیادی وجہ حکمرانوں میں ایمانداری کے عنصر کا مفقود ہونا ہے۔نظام کی تبدیلی اور ایماندار قیادت کا آگے آنا وقت کا تقاضا ہے اس کے بغیر ہم آئندہ سو سال بھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں سابقہ حکومت نے لوٹ مار اور پیدا گیر ی کی انتہا ء کردی تھی ایس ایم ایس اور ایزی لوڈ کا کلچر تھا ، اسفندیار ، حید رہوتی اور معصوم شاہ نے اپنے اپنے حصے بنا رکھے تھے۔لوٹ مار کا پیسہ تقسیم ہوتا تھا، جب وہ حکومت میں آئے تو تمام ادارے تباہ حال تھے مگر کسی نے احساس تک نہیں کیا۔ تعلیم کے شعبے میں مداخلت کرکے تقریبا35 لاکھ غریب بچوں کا مستقبل تباہ کیا گیا ۔مطلب یہ کہ لاکھوں خاندان اس مداخلت کا شکار بنے۔تین طبقاتی نظام تعلیم نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ایک کامیاب انسان اور مفید شہری پیدا کرنے اور متوازن معاشرے کی تشکیل کیلئے بیک وقت عصری اور دینی تعلیم کا فروغ ضروری ہے۔بد قسمتی سے سرکاری سکولوں میں بچوں کو مناسب دینی تعلیم سے محروم رکھا گیا اور دوسری طرف دینی مدارس نے اپنے آپ کو دینی تعلیم تک ہی محدود کرکے عصری علوم کے دروازے بند کردیئے۔تیسری جانب امیروں اور جاگیرداروں کیلئے انگلش میڈیم اور غریب کیلئے اُردو میڈیم پر اکتفا کیا گیا۔موجودہ صوبائی حکومت سرکاری سکولوں میں انگلش میڈیم ، پرائمری سطح پر شروع کر چکی ہے۔دینی تعلیم کیلئے اول سے پانچویں کلاس تک ناظرہ قرآن اور چھٹی سے بارہوویں تک قرآن با ترجمہ لازمی کرنے کے ساتھ نصاب کو مزید دینی اقدار اور تعلیمات سے روشناس کیا جارہا ہے۔ہم ایک بہترین اور متوازن شخصیت کی حامل قوم پیدا کرنا چاہتے ہیں یہاں ایم ایم اے نے بھی حکومت کی مگر عملی طور پر اسلام کیلئے کچھ نہ کر سکی۔یہ تحریک انصاف ہے جو اپنے ایجنڈے کے مطابق عمل درآمد یقینی بنا رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے تباہ حال صحت کے شعبے کو بھی نئے خطوط پر استوار کیا۔ آج خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹرز موجود ہیں ، مشینری کی ترسیل شروع ہے اور ہسپتالوں کی سطح پر معیاری دواؤں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے فارمیسی قائم کی جارہی ہیں۔ غریب کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کارڈ کا اجراء کیا گیا ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے ساڑھے چار سال کے مختصر عرصے میں عوام کو خدمات کی فراہمی ، میرٹ کی بالادستی ، انصاف کے بول بالے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے متعدد قانون بنائے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو صوبائی حکومت کے قوانین اور اصلاحات کی افادیت اور ان کے استعمال سے آگاہ کریں تاکہ مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ نے آخر میں باردیگر عوام سے کہا کہ اگر اُنہیں اپنا مستقبل عزیز ہے تو ایماندار قیادت کے ہاتھ مضبوط کریں جب تک ملک کو چلانے والا سربراہ ایماندار اور قوم دوست نہیں ہو گاترقی نہیں ہو سکتی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب ایک خاندان کا سربراہ ٹھیک نہ ہو تو خاندان تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح ملک بھی ایک خاندان کی حیثیت رکھتا ہے اگر ملک کا سربراہ کرپٹ اور بے ایمان ہو تو پوری قوم تباہی کا شکار ہو جاتی ہے ۔ وزیر اعلی خیبرپختونخوا مسلم لیگ ن کے ضلعی سینر نائب صدر سہیل خان خٹک کی رہائش گاہ پہنچے ۔ اور ان کو بھی پی ٹی ائی میں شمولیت کی دعوت دی جو سہیل خٹک نے قبول کی اور کہا کہ وہ باقاعدہ بڑے جلسہ عوام میں اپنے ساتھیوں اور خاندان سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے کااعلان کریں گے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خان خٹک بعدازاں شیدو گئے جہاں پر انھوں نے عزیز اللہ جان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ کچھ دیر وہاں موجود رہے۔