News Details

09/10/2019

حکومت خیبرپختونخوا اور صنعت کاروں کے درمیان بجلی کی خریدوفروخت کا معاہدہ

حکومت خیبرپختونخوا اور صنعت کاروں کے درمیان بجلی کی خریدوفروخت کا معاہدہ صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر کردہ پیہور پن بجلی گھر سے 18 میگا واٹ بجلی صنعتوں کو سستے داموں فروخت کی جائے گی معاہدہ صوبے میں صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور معاشی استحکام کی طرف انقلابی قدم ہے۔ وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں صنعت اور سرمایہ کاری کا تیز ترفروغ صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے ، شعبہ توانائی میں حکومتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر ہم اپنے اہداف کے حصول میں کامیابی کی طرف گامزن ہے۔حکومت کے اپنے وسائل سے پیدا کردہ 72 میگا واٹ بجلی نیشنل گریڈ میں پہلے سے شامل کر چکے ہیں جس سے صوبے کو 1.9 ارب روپے سالانہ آمدنی آئے گی، اب صنعت کاروں کو ویلنگ ماڈل کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنے جارہے ہیں جو بلاشبہ صوبائی حکومت کا انقلابی قدم ہے جس سے سالانہ 305 ملین روپے آمدنی آئے گی ۔پی ٹی ئی کی صوبائی حکومت نے گذشتہ ایک سال میں اپنے منشور کے تحت نظام کی بہتری اور عوام کی فلاح و ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں ،سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام ایک بڑا چیلنج تھا جو ہم نے پورا کیا ہے۔کچھ عناصر حکومتی کارکردگی کے حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ ہم عوام کی فلاح کیلئے کام کر رہے ہیں مگر کچھ لوگ فساد کے درپے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کے ہاتھوں میں بندوق کی جگہ قلم دینا چاہتے ہیں، ہم ترقی اور اصلاحات کے عمل کو فساد کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں محکمہ توانائی و برقیات حکومت خیبرپختونخوا اور صنعت کاروں کے درمیان سستی بجلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان، چیف سیکرٹری سلیم خان، سیکرٹری توانائی، کورئین سفیر ، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں نے تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے تعمیر کردہ پیہور پن بجلی گھر سے پیدا ہونے والی 18 میگا واٹ بجلی ویلنگ ماڈل کے زریعے مختلف صنعتی شعبوں کو سستے داموں فروخت کرنے کیلئے معاہدوں پر دستخط کئے گئے ۔ان صنعتی یونٹس میں گدون ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ ، چراٹ پیکجنگ لمیٹد، اے جے ٹیکسٹائل لمیٹڈ، پریمیئر چپ بورڈ انڈسٹریز لمیٹڈ اور چراٹ سیمنٹ کمپنی شامل ہیں۔پیہور ہائیڈروپراجیکٹ پہلا منصوبہ ہے جو صنعت کاروں کو ویلنگ کے ذریعے بجلی کی فراہمی کیلئے بطور ماڈل پراجیکٹ قائم کیا گیا ہے۔ معاہدے کی رو سے صوبائی حکومت صنعت کاروں کو سستے داموں یعنی 7.50 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرے گی جووفاقی حکومت کے ریٹ کے مقابلے میں بہت سستا ہے۔ وزیراعلیٰ نے معاہدے کو صنعت کے فروغ کیلئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے صنعت کاروں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا جو آج صوبائی حکومت نے پورا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اس کاوش کے نتیجے میں نہ صرف صنعتوں کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم ہوگی بلکہ صوبے کی آمدن 162 ملین روپے سالانہ سے بڑھ کر 305 ملین روپے ہو جائے گی اس کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطے کو صنعتی و تجارتی مرکز بنانا چاہتے ہیں اسی مقصد کیلئے طورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں کیلئے کھولا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر قابوں پانے کیلئے صنعتوں کا فروغ بہت ضروری ہے۔صوبائی حکومت اس مقصد کیلئے صنعت ، تجارت اور توانائی کے شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس وقت بجلی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے2020 ءتک تقریباً 216 میگاواٹ مزید بجلی میسر ہوگی جو اسی طریقہ کار کے تحت صنعتوں کو سستے داموں فراہم کی جائے گی۔محمود خا ن نے حکومت کے میگا منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ماہ رشکئی اکنامک زون پر بھی عملی کام کا باضابطہ افتتاح کیا جائے گا، ان کی کوشش ہے کہ چشمہ لفٹ ایریگیشن سکیم کو بھی موجودہ دور حکومت میں مکمل کریں اور اس کے لئے بجلی بھی خود فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں پن بجلی کے چھوٹے گھروں کی تعمیر بھی جاری ہے 280 چھوٹے پن بجلی گھر مکمل کئے جاچکے ہیں جو آئندہ ماہ متعلقہ کمیونٹیز کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت چھوٹے پن بجلی گھروں کی تعداد ایک ہزار تک لے جانے کی منصوبہ بندی رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے معدنی وسائل میں استعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک میں تیل کی پیداوار کا 52 فیصد فراہم کرتا ہے۔اسی طرح 11 فیصد گیس اور چالیس فیصد ایل پی جی بھی یہ صوبہ پیدا کر رہا ہے، دیگر صوبوں کے مقابلے میں تیل و گیس کے کنووں کی کامیابی کی شرح بھی بہت بہتر ہے۔خیبرپختونخوا میں ہر دو میں سے ایک کنواں کامیاب ہو تا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بلوچستان میں پانچ میں سے ایک اور پنجاب میں چھ میں سے ایک کنواں کامیاب ہو تا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت صوبے کو تیزتر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے قابل عمل منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے تاہم کچھ عناصر فساد کرنا چاہتے ہیں اور تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔محمود خان نے واضح کیا کہ وہ ترقی اور بہتری کے عمل کو کسی کی ذاتی چاہت اور خواہش کے نذر نہیں ہونے دینگے۔