News Details

25/07/2018

صوبے بھر کے میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے 19 اگست 2018 کو ایٹا ٹیسٹ کے انعقاد کی منظوری

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سابق جسٹس دوست محمد خان نے صوبے بھر کے میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے 19 اگست 2018 کو ایٹا ٹیسٹ کے انعقاد کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ آج اُنہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا۔اجلاس میں وزیر تعلیم سارہ صفدر، وزیر اطلاعات ظفر اقبال بنگش، وزیراعلیٰ کی مشیر آسیہ خان، سیکرٹری تعلیم منظور، سیکرٹری انڈسٹری فہیم وزیر، وائس چانسلر کے ایم یو ارشد جاویداور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ایٹا کے تحت امتحاناتی نظام ، طلباء کو فراہم کی جانے والی سہولتیں ، صوبے بھر کے امتحانی انٹرمیڈیٹ بورڈز کی کارکردگی ، امتحانات میں نقل کی حوصلہ شکنی ، قانونی فریم ورک اور امتحانی نظام میں کمزوریوں پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ اجلاس میں امتحانی نظام میں شفافیت لانے کیلئے متعدد فیصلے کئے گئے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے اس پورے عمل کیلئے ایک فعال مانیٹرنگ سسٹم اور اس کو مزید شفا ف اور موثر بنانے کیلئے ایٹا کو ایسا سی سی ٹی وی کنٹرول متعارف کرانے کی ہدایت کی جو پشاور سے کنٹرول ہو ،تاکہ اس کی شفافیت پر آنچ نہ آئے۔امتحانات کی ہر سطح پر ایک فول پروف نظام ہونا چاہیئے جس میں امتحانات کیلئے متعین اہلکاروں کی ذمہ داری کا تعین ہو اور سسٹم میں خامیوں کا تدارک ہو ۔ نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں تمام انٹرمیڈیٹ بورڈز کی کمزوریوں کو دور کرنے ، میرٹ پر تعیناتی، نقل کے رجحان کے خاتمے ،سیاست اور دیگر مداخلت سے پاک ایک خود کار نظام بنانے کیلئے آرڈنینس لارہے ہیں۔ فی الوقت موجودہ سسٹم نے بہت زیادہ سقم موجود ہیں ۔ دوردراز علاقوں کے طلباء کے مسائل اور غیر موزوں موسمی مسائل سے اُن کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور اُنہیں نفسیاتی طور پر مسائل پیداہوتے ہیں اس لئے ہمیں ایک فعال اور یکساں ماحول کے ذریعے بچوں کو نفیساتی غبار سے نکالنا ہو گا ۔اُنہوں نے کہاکہ موسمیاتی تکالیف سے نکالنے کیلئے ایک مکمل ڈیٹا بنایا جائے اور نقل کے رجحان کو ختم کرنے کیلئے جدید طریقے اپنائے جائیں گے تاکہ معیار تعلیم بہتر ہو۔ یہ سہولیات پورے صوبے میں ہر جگہ ملنی چاہئیں ۔اُنہوں نے صوبے بھر کے بورڈز میں سیاسی اور غیر ضروری مداخلت کی حوصلہ شکنی کیلئے ہدایات دیں ۔ اُنہوں نے امتحانی نظام کو نچلی سطح پر لاکر دور دراز کے علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے تجاویز مانگیں ۔ ہم نے ہر کسی کو یکساں مواقع فراہم کرنے ہیں اور یہ ہرسطح پر موثر اقدامات سے ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔ اس سے تمام طلباء کو یکساں فائدہ ہو گا۔ اُنہوں نے کہاکہ کوالٹی ایجوکیشن کیلئے نقل کی حوصلہ شکنی ضروری ہے ۔ہماری تمام کوششوں کا محور جب کوالٹی ایجوکیشن ہے تو ہمیں موثر اقدامات کرنے ہوں گے ۔ اسی طرح تمام انٹرمیڈیٹ بورڈز کے چیئرمینوں کی کارکردگی کا ایک روڈ میپ ہونا چاہیئے ۔ امتحانی سسٹم کو آؤٹ سورس کرنا نہایت ہی نامناسب ہے کیونکہ یہ ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے اور سسٹم اتنا فعال ہونا چاہیئے کہ امتحانات کی آؤٹ سورسنگ کی بات ہی نہ ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمیں بنیادی نوعیت کے فیصلے کرنے ہوں گے ۔ سسٹم سے کمزوریوں کا خاتمہ کرنا ہو گا، میرٹ اور انصاف کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی اور ایجوکیشن سسٹم میں ایک ایسا طریقہ کار ہو جو تمام مسائل کا حل بھی دیتا ہو، طلباء کے مسائل بھی حل ہوں اور نقل کی حوصلہ شکنی بھی ہو۔ یہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ اُنہیں والدین اور طلباء کی طرف سے سسٹم میں کمزوریوں کے حوالے سے مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ہم کوالٹی ایجوکیشن پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کے مستقبل کی بات ہے ۔ اس سے روگردانی کا مطلب کوالٹی ایجوکیشن پر سمجھوتے کرنے ہیں یہی سمجھوتے معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔