News Details

15/07/2018

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اہم اجلاس

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان کی زیر صدارت سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ اہم اجلاس میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ، سیاسی خطبات میں شائستہ زبان کے استعمال اور موجودہ ناساز گار حالات میں سکیورٹی کے سلسلے میں سکیورٹی اداروں سے تعاون اور مجموعی طور پر پرامن ، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ نگران وزیراعلیٰ نے سیاسی رہنماؤں کی تجاویز کو خوش آمدید کہتے ہوئے واضح کیا کہ غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کیلئے تمام دستیاب وسائل پوری قوت کے ساتھ استعمال میں لارہے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا شکایت سے فوری طور پر نمٹنے کیلئے ایک مکمل اور جامع پلان دینے کے ساتھ ساتھ وزارت داخلہ میں کنٹرول روم قائم کیا جا چکا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بھی ایک مکمل اور جامع کراسسز مینجمنٹ سیل قائم کیا جا رہا ہے جو کل تک کام شروع کردے گااور کسی بھی شکایت کی صورت میں 12 گھنٹوں کے اندر کاروائی یقینی بنائے گا ۔کسی بھی سرکاری افسرکے خلاف فوری شکایت درج کی جا سکے گی اور فوری ایکشن بھی لیا جائے گا۔ میڈیا اورعام لوگوں کو ریسپانس میکنرم تک فوری رسائی ہو گی،مشترکہ کاؤشوں اور تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے محرکات اور اس کا نیٹ ورک توڑنے میں جلد کامیاب ہوجائیں گے ۔وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں منعقدہ اجلاس میں نگران صوبائی وزراء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شر کت کی جن میں پروفیسر ابراہیم، ڈاکٹر خلیل، بحر اﷲ، مولانا یوسف شاہ، مولان عتیق اﷲ، ملک ندیم، غلام علی خان، مولانا گل نصیب، رفیع اﷲ خان، مولانا عبد الحسیب ، مولانا ظفر، جاوید نسیم، ذکاء اﷲ، اسد آفریدی، ڈاکٹر عالم ، عائشہ گلالئی، شمس القمر اور دیگر شامل تھے ۔نگران وزیراعلیٰ نے شرکاء کو سکیورٹی اور شفاف انتخابات کے حوالے سے حکومتی انتظامات سے آگاہ کیا اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے تعاون کی اُمید ظاہر کی ۔ اُنہوں نے کہاکہ اُن کی حکومت موجودہ بحران سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار ی کرچکے ہے۔ یکے بعد دیگرے تین واقعات نے حالات تبدیل کردیئے تھے تاہم اُنہوں نے متعلقہ سکیورٹی اداروں کے سربراہان سے ملکر ایک جامع پلان بنایا ہے تاکہ اس صورتحال سے نمٹا جا سکے ۔ اُنہوں نے کہاکہ وہ ذمہ داریوں کا تعین کر چکے ہیں، غفلت اور کوتاہی پر مثالی سزا دی جائے گی۔دہشت گردی کے واقعات روکنے کیلئے جامع پلان بنا چکے ہیں اور شرپسندوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے بھر پور کوشش ہے کہ جانی نقصان نہ ہو ۔اُنہوں نے کہا کہ وہ آئین کے تحت دیئے گئے اختیارات استعمال کریں گے تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی اور سکیورٹی انتظامات میں جھول نہ آنے پائے۔ہمارے سامنے چیلنجز گھمبیر شکل میں ہیں لیکن ہماری تیاری اور عزم اس سے کہیں زیادہ ہے ۔الیکشن صاف شفاف اور منصفانہ ہو ں گے ۔ اُنہوں نے سیاسی قائدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے جلسوں میں الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں۔بہتان تراشی اور ناشائستہ زبان کا استعمال ہمارے اسلام ، ہمارے کلچر اور الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کے خلاف ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ سیاست اپنی جگہ مگر آپس میں ایک تعلق ضرور قائم رکھیں اپنا ، اپنا پروگرام پیش کریں یہ ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے مگر حالات میں تلخی نہ پیدا ہونے دیں۔ نگران وزیراعلیٰ نے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ عوام کو حق رائے دہی کے استعمال کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ قانون کے تحت مطلوبہ شرح سے کم ٹرن آوٹ والے حلقوں کے انتخابات کالعدم قرار دیئے جائیں گے ۔اُنہوں نے خصوصی طور پر خواتین کو ووٹ دینے کی اجازت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہاکہ یہ اُن کا حق ہے جو اسلام نے دیا ہے اور پاکستان کے قانون میں بھی موجود ہے ۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ خواتین کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کیلئے مناسب اور مکمل پردہ داری کا ماحول دیا جارہا ہے ۔ خواتین پولنگ سٹیشنز پر عملہ اور پولیس بھی خواتین پر مشتمل ہو گا۔ اُنہوں نے کہاکہ سیاسی رہنماؤں اور اُمیدواروں کی بھر پور سکیورٹی کیلئے انتظامی اقدامات بڑھانے کے اقدامات جاری کردیئے ہیں۔سیاسی قائدین اور انتخابات لڑنے والے اُمیدواروں کو سرکاری سکیورٹی سمیت ذاتی سکیورٹی کیلئے پرمٹ بھی جاری کریں گے تاہم یہ پرمٹ سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوں گے۔اُنہوں نے مزید کہاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ہسپتالوں کو ہدایات جاری کر چکے ہیں۔ پولیس فوری ریسپانس ٹیمیں ہوں گے ، امن اور سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اُنہوں نے علماء، سیاسی قائدین اور رائے عامہ کے لیڈرز سے بھی کہا کہ وہ امن اور سکیورٹی کے تناظر میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ضابطہ اخلاق کی پابندی ضروری ہے ، میں خود سکیورٹی کے حالات مانیٹر کررہا ہوں ، سیاسی قائدین کی حمایت اور تائید سے شفاف اور پرامن انتخابات ممکن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی قائدین کی تجاویز کو مثبت لے رہے ہیں کیونکہ ہمارا اور سیاسی قائدین کا حتمی مقصد پرامن ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔سیاستدان ضابطہ اخلاق کے تحت سیاست کریں اور سرکاری ملازمین اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تو ہم اپنے اہداف میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ گڑ بڑ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی ہو گی۔اُنہوں نے واضح کیا کہ اُن کے پرزور اصرار پر صوبے کو بہتر سکیورٹی کیلئے 3338 نفوس پر مشتمل 86 ایف سی پلاٹون اورآزاد کشمیر سے 500 تربیت یافتہ پولیس جوان دیئے جارہے ہیں جس سے صوبے بھر کے حساس علاقوں کے پولنگ سٹیشنز میں بہتر سکیورٹی اور انتظامی معاملات کیلئے تعیناتی کی جائے گی۔نگران وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ سابقہ اجلاس میں یہ فیصلہ کر چکے ہیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت بھی جاری کر چکے ہیں کہ مختلف علاقوں میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں اور اُن کے جلسوں اور کارنر میٹنگز وغیرہ کا شیڈول پیشگی حاصل کریں تاکہ سکیورٹی کے مناسب اقدامات کئے جا سکیں اور سیاسی جماعتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی شہر یا علاقے میں بیک وقت تین چار جلسے نہ کریں اس سے سکیورٹی انتظامات تقسیم ہو جاتے ہیں جلسوں کے درمیان مناسب وقفہ ضرور رکھیں تاکہ سکیورٹی پہنچائی جا سکے ۔ اُنہوں نے سیاسی نمائندوں کو تجویز دی کہ معاشرے کے علمائے کرام اور دیگر طبقات سے اہم شخصیات پر مشتمل کمیٹیاں بھی ہونی چاہئیں جو اشتعال انگیزی کی صورت میں کردار ادا کریں اور اُس کے خاتمے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔