واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک معرکہ تھا

01/10/2017

خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا حق و باطل کے درمیان ایک معرکہ تھا جس میں نواسہ رسول ؐ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے دین اسلام کی سربلندی کیلئے جو لازوال قربانی پیش کی وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گی۔ کربلا کا واقعہ ہمیں اپنے مشن سے محبت، ایثار، قربانی، حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کا درس دیتا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر مسلمان نہ صرف اپنی عظمت رفتہ کو بحال کر سکتے ہیں بلکہ دنیا میں انسانیت کے استحصال اور ظلم کا خاتمہ کر کے پائیدار امن بھی قائم کر سکتے ہیں۔ عاشورہ محرم کی مناسبت سے یہاں سے جاری اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سانحہ کربلا تاریخ کے نااہل حکمرانوں کے ظلم و بربریت پر مبنی ایک واقعہ ہے جس میں پوری انسانیت کیلئے عظیم درس پوشیدہ ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور اپنے پیروکاروں کو انسانیت سے محبت اور اخوت و یگانگت کے ماحول میں رہنے کا درس دیتا ہے امام عالی مقام نے ظالم و جابر حکمران یزید اور اسکی انسانیت دشمن پالیسیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیا۔ اسی پیغام انسانیت و جدوجہد کو روز آخرت تک زندہ رکھنے کیلئے سیدنا امام حسینؓ نے اپنے پورے خاندان کی قربانی دی اور حق و صداقت کی بالادستی کیلئے صبر و استقامت کی عظیم مثالیں قائم کیں ۔ وقت آچکا ہے کہ ہم آپس میں الجھنے کی بجائے ہماری الجھنوں کا سبب بننے والے عوامل کا قلع قمع کریں۔قوم دوست اورقوم دشمن عناصر میں فرق پیدا کریں۔غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کے لیے ہمیں ایک زندہ قوم کے طور پر ظلم ،نا انصافی اورکرپشن کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا۔ بدقسمتی سے ہماری قومی بے حسی کا ہمارے سابقہ حکمران اور ملک دشمن عناصرغلط فائدہ اٹھاتے رہے ۔پرویز خٹک نے اہل وطن سے اپیل کی کہ امن ہماری قومی اور بین الاقوامی ضرورت ہے لہٰذا اس مبارک مہینہ کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے مسلکی ہم آہنگی کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے جو بحیثیت مسلمان ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو نت نئے سیاسی و معاشی چیلنجوں کے علاوہ بے شمار سنگین مسائل کا سامنا ہے جن سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ہمیں آپس میں لڑنے اور دنیا کیلئے جگ ہنسائی کا باعث بننے کی بجائے باہمی اتحاد سے انکے پائیدار حل اور پرامن سیاسی و معاشی تبدیلی کیلئے کمربستہ ہونے اور جہد مسلسل کرنے کی ضرورت ہے۔ <><><><><><><